لیپ ٹاپ 100 ڈالر سے بھی کم میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایم آئی ٹی میڈیا لیب کے خالق اور سربراہ نکولس نیگروپونٹے نے ایک ایسا لیپ ٹاپ کمپیوٹر بنانے کا اعلان کیا ہے جس کی قیمت ایک سو امریکی ڈالر سے کم ہو گی۔ اس سلسلے کا پہلا کمپیوٹر نومبر میں تیونس میں انفارمیشن سوسائٹی کے عالمی اجلاس میں سامنے لایا جائے گا۔ پروفیسر نیگروپونٹے کو یہ سستا لیپ ٹاپ بنانے کا خیال کمبوڈیا کے ایک گاؤں کے دورے کے بعد آیا۔ ان کی فلاحی تنظیم’ ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘ کے منصوبے کے تحت آئندہ ایک سال میں ایسے پندرہ ملین کمپیوٹر تیار کیے جائیں گے۔ پروفیسر نیگروپونٹے کے مطابق برازیل، چین، مصر، تھائی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے بچوں کو یہ لیپ ٹاپ سب سے پہلے فراہم کیے جائیں گے۔ امریکی ریاست میساچوسٹس کے گورنر نے بھی ریاست کے تمام مڈل اور ہائی سکول طلباء کے لیے پانچ لاکھ لیپ ٹاپ خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ نکولس نیگروپونٹے کا خیال ہے کہ سنہ 2007 تک ان کمپیوٹروں کی کھپت سالانہ ایک سو سے ڈیڑھ سو ملین تک پہنچ جائے گی۔ اس لیپ ٹاپ کا خول ربر کا ہوگا اور یہ لیپ ٹاپ دیگر کمپیوٹروں کے مقابلے زیادہ مضبوط ہو گا اور اسے متعدد طریقوں سے فولڈ کیا جا سکے گا۔ اس لیپ ٹاپ میں بجلی نہ ہونے کی صورت میں چابی بھری جا سکے گی۔ امید کی جاری ہے کہ لینکس آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرنے والے اس کمپیوٹر میں پانچ سو میگا ہرٹز کا پراسیسر ہو گا اور ہارڈ ڈسک کی جگہ فلیش میموری استعمال کی جائے گی۔ ان کمپیوٹروں میں چار یو ایس بی پورٹ ہوں گی اور اسے انٹرنیٹ سے بذریعہ وائی فائی۔ وائرلیس نیٹ تکنیک کے ذریعے منسلک کیا جا سکے گا۔ اس کمپیوٹر میں ڈسپلے کے دو نظام ہوں گے تاکہ روشنی کی کمی کی صورت میں بھی اسے استعمال کیا جا سکے۔ عام طور پر رنگین ڈسپلے استعمال ہو گا لیکن زیادہ تیز روشنی کی صورت میں صارف اسے بلیک اینڈ وائٹ پر منتقل کر سکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||