لیپ ٹاپ 100 ڈالر سے کم میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی مشہور درس گاہ ایم آئی ٹی کی میڈیا لیب کے سربراہ نکولس نیگروپونٹے نے کہا ہے کہ وہ ایسا لیپ ٹاپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی قیمت سو ڈالر یا اس سے بھی کم ہوگی۔ نیگروپونٹے نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام گو ڈیجٹل کو انٹرویو میں بتایا کہ سستے لیپ ٹاپ سے ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کے فروغ کا کام لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی بچہ ایک لیپ ٹاپ ’نہ صرف اس بچے کی بہتری بلکہ اب اس کے پورے خاندان، گاؤں اور پڑوس کی بہتری کے لیے اہم ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ بچے اس لیپ ٹاپ کو کتاب کے طور پر استعمال کر سکیں گے۔ نیگرپونٹے نے اپنے لیپ ٹاپ کے بارے میں بتایا کہ اس کی قیمت کم رکھنے کے لیے اسے دوسرے ممالک میں مختلف حصوں کی صورت میں بھیجا جائےگا جہاں یہ مقامی طور پر اسمبل ہوگا۔ سستے لیپ ٹاپ تیار کرنے کے منصوبے کی بنیاد امریکہ میں کیے گئے ایک تجربے پر رکھی گئی ہے جس میں سکول کے بچوں کو گھر کا کام کرنے کے لیے لیپ ٹاپ دیئے گئے تھے۔ یہ منصوبہ بچوں میں کافی مقبول ہوا تھا لیکن ابتدائی طورپر اساتذہ کی طرف سے مزاحمت کی گئی تھی۔ کچھ لیپ ٹاپ ناکارہ بھی ہو گئے تھے۔ لیکن نیگروپونٹے کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر ایسا ہی منصوبہ کمبوڈیا میں کیا تھا۔ انہوں نے دو سکول کھول کر پچیس بچوں کو لیپ ٹاپ دیئے تھے۔ تین سال میں ان میں سے صرف ایک لیپ ٹاپ خراب ہوا ہے اور بچے بھی بہت خوش ہیں۔ لیپ ٹاپ کتاب کے ساتھ ساتھ ٹی وی، ٹیلی فون اور وڈیو کھیلنے کے کام بھی آتا ہے۔ نیگروپونٹے چاہتے ہیں کہ لیپ ٹاپ موبائل فون سے زیاہ عام ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’نوکیا‘ سال میں دو سو ملین موبائل فون بناتا ہے۔۔۔۔۔ہم دو، تین یا پانچ سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں‘۔ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ دسمبر دو ہزار چھ تک اپنے لیپ ٹاپ تیار کر لیں اور انہوں نے چین میں وزارت تعلیم سے مذاکرات شروع بھی کردیئے ہیں جن سے ایک بڑے آرڈر کی توقع کی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||