روبوٹ کس حد تک زندہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے زندہ انسانی دل کے ریشوں کی مدد سے چلنے والے مائکروسکوپِک یعنی انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے روبوٹ بنالیے ہیں۔ یہ روبوٹ ایک میلی میٹر سے بھی چھوٹے ہیں اور کسی خارجی ذریعے کی مدد کے بغیر چل سکتے ہیں۔ یہ تحقیق بحیاتیاتی ٹیکنالوجی یعنی بائوٹیکنالوجی اور نینوٹیکنالوجی کے درمیان اشتراک میں اہم پیش رفت ہے۔ نینوٹیکنالوجی انسانی بال کی چوڑائی کے ہزارویں حصے سے بھی چھوٹی چھوٹی مشینیں بنانے کی سائنس ہے۔ سائنسدانوں نے انسانی دل کے ریشوں کے خلیات پر تحقیق کرکے انہیں پلاسٹِک یا سیلیکن کے بنے ہوئے روبوٹ میں پرورش ہونے دی۔ سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ کارلو مانٹیماگنو کا کہنا ہے کہ ریشوں کے خلیات کو کئی طرح کی چھوٹی چھوٹی مشینیں بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے جیسے چھوٹے چھوٹے الیکٹریکل جنریٹرز جن کی مدد سے کمپیوٹر چِپ بنتے ہیں۔ نینوٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تحقیق سے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ یہ روبوٹ ’’کس حد تک زندہ‘‘ ہیں اور بعض لوگ اس کی وجہ سے پریشان ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||