| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیکنالوجی کا نیا معجزہ، دس گرام کا ہیلی کاپٹر
جاپان میں سیکو ایپسن نامی کمپنی نے ایک نمائشی تقریب میں دنیا کے سب سے کم وزن اور سب سے چھوٹے ہیلی کاپٹر کی تفصیلات جاری کی ہے جو روبوٹ ہیلی کاپٹر کہلائے گا۔ بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ روبوٹ ہیلی کاپٹر جس کی لمبائی صرف ستر ملی میٹر ہے، زلزلوں کا شکار ہونے والی عمارتوں میں گھس کر اڑتے ہوئے کیمرے کا کام دے سکے گا۔ اصل ہیلی کاپٹر کی یہ مختصر نقل جس کے ’چار پاؤں‘ بھی ہیں، کُل دس گرام وزنی ہے اور اسے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا جا سکے گا۔ تاہم اس چلنے کے لئے تار اور بیٹری کی بھی ضرورت ہوگی۔ سیکو ایپسن کے مینیجر جنجی اجئیوکا کہتے ہیں کہ وہ کسی دوسری کمپنی سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ روبورٹ ہیلی کاپٹر کو چلانے کے لئے انتہائی کم وزن بیٹری بنائی جائے جو ہیلی کاپٹر کو چلا سکے۔
’یہیں وجہ ہے کہ ہم نے یہ ہیلی کاپٹر صرف نمائش میں لوگوں کے سامنے رکھا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی کمپنی ہمیں اس ہیلی کاپٹر کے لئے بہت ہی کم وزنی بیٹری بنا دے۔‘ تاہم اجئیوکا کا کہنا تھا کہ ننھے ہیلی کاپٹر کو مارکیٹ میں لانے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ اس ربورٹ ہیلی کاپٹر میں ایک کیمرہ نصب ہے اور یہ انتہائی خطرناک جگہوں میں بھی پرواز کر سکتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر وہاں جا سکتا ہے جہاں کوئی آفت آئی ہو اور جہاں انسان نہ جا سکتے ہوں۔ سیکو کمپنی کے مینجر کے الفاظ تھے: ’بس یوں سمجھ لیجیئے کہ یہ روبورٹ ہیلی کاپٹر ایسے ہی ہے جیسے انسان کی آنکھ ہو۔‘ کمپنی کو یہ ہیلی کاپٹر تیار کرنے میں تین سال لگے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||