امریکی فوج کے لئے روبوٹ گاڑیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج ہفتے کو ایک روبورٹ ریس کا انتظام کر رہی ہے جس کے جیتنے والے کو انعام میں دس لاکھ ڈالر ملیں گے۔ اس روبورٹ ریس کا مقصد ایسی گاڑیوں کی تیاری ہے جنہیں بغیر ڈرائیور کے میدانِ جنگ میں بھیجا جا سکے۔ ان روبورٹ گاڑیوں کو امریکی ریاست کیلیفورنیا سے نویڈا تک پھیلے ہوئے صحرا میں تین سو چالیس کلو میٹر کا فیصلہ طے کرنا ہے۔ یہ گاڑیاں شوقین ماہرین نے تیار کی ہیں جن میں ریٹائرڈ نیوکلیر انجیینیئروں سے لے کر ہائی سکول کے طالب علم شامل ہیں۔ یہ روبورٹ گاڑیاں سیٹلائٹ نظام اور ڈیجیٹل قطب نما کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کریں گی۔
ساتھ ساتھ یہ گاڑیاں انفرا ریڈ سینسرز استعمال کریں گی۔ جو گاڑی دس گھنٹے کی اس ریس میں سب سے کم وقت میں ہدف تک پہنچے گی اس کا بنانے والا گروپ انعام کا حقدار ہوگا۔ یہ روبورٹ ریس جس کا نام ’گرینڈ چیلنج‘ ہے در اصل روبورٹ گاڑیوں کو جنگ میں استعمال کرنے کے امکان کو مدِ نظر رکھ کر شروع کی جا رہی ہے۔ اس مقابلے میں ماہرین کی اکیس ٹیمیں شریک ہیں۔ ابتدا میں پچیس ٹیمیں مقابلے میں شامل ہوئی تھیں لیکن چار ٹیموں نے مقابلہ شروع ہونے سے قبل ہی دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔
اس مقابلے سے پہلے ایک مختصر ریس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ایک ہی روبورٹ کار جس کا نام ’سینڈ سٹورم‘ تھا ایک اعشاریہ پانچ کلو میٹر کا مقررہ فاصلہ صحیح طور پر طے کر پائی۔ اس گاڑی کا یہ کام بھی تھا کہ یہ تعین کرے کہ کونسی روبورٹ گاڑیاں طویل سفر کے لئے موزوں ہیں۔ گاڑیوں کے اس ابتدائی مقابلے میں یہ بھی دیکھا جانا تھا کہ روبورٹ گاڑیاں کس طرح اینٹوں، دھات اور دوسری رکاوٹوں کو چیر کر اپنا راستہ بناتی ہیں۔ یہ گاڑیاں سینسرز کے ذریعے معلوم کرتی ہیں کہ ان کے سامنے کیا ہے اور پھر سٹیلائٹ کے ذریعے راستہ پہچان لینے کے بعد آگے بڑھتی ہیں۔ جیتنے کے لئے ہر روبورٹ گاڑی کو مقررہ فاصلہ اپنے خالق کی مدد کے بغیر دس گھنٹے میں طے کرنا ہوگا۔ ان گاڑیوں کو دیکھ کر بہتر قسم کی گاڑیاں بنانے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||