نینو ٹیکنالوجی: نئے قوانین کی ضرورت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’نینو‘ یا بہت ہی چھوٹی اشیاء کی ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال کے لیے نئے قوانین بنانا ضروری ہو گیا ہے۔ ’نینو‘ سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو ایک سوئی کی نوک سے تقریباً ایک ملین گنا چھوٹی ہوتی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آجائیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صرف پانچ سال بعدتین دن میں ختم ہوجانے والی بیٹریوں پر لوگ ہنسیں گے کیونکہ نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے کئی سال تک چلنے والی بیٹریاں بنائی جا چکی ہونگی۔ امریکہ کی ایم آئی ٹی یونورسٹی میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کچھ سال میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی فوجیوں کے لیے سامان ایک سے دوسری جگہ پہنچانا آسان ہو جائےگا۔ جہاں اس وقت ایک فوجی کو 10 یا 15 کلو کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ہے وہیں کچھ سال بعد یہ صرف 10 یا 15 گرام رہ جائےگا۔ روائیل سوسائٹی اینڈ روائیل اکیڈمی آف اینجنئیرنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق نینو ٹیکنالوجی سے انسانیت کو بہت فائدے ہو سکتے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں خاص طور پر نہایت ہی چھوٹے گرد کے اشیاء یا ’نینو ٹیوب پارٹکلز‘ جو سانس لیتے وقت انسان کے اندر جا سکتے ہیں۔ نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہروں اور سالمہوں کا استعمال کرکے چیزوں کو غیر معمولی کردار دیے جا سکتے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ کے ولی عہد پرنس چارلز نے نینو ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ’نینو پارٹکلز‘ اور ’نینو ٹیوبز‘ کو برطانوی اور یورپی قوانین کے تحت نئی کیمیائی اشیاء کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ان نہایت ہی چھوٹی اشاء کو روزمرہ استعمال ہونے والی چیزوں میں شامل کرنے سے پہلے ایک آزادانہ سائنسی حفاظتی کمیٹی سے ان کی تصدیق ہونی چاہئے۔ اس رپورٹ پر کام جون 2003 میں شروع ہو گیا تھا۔ اس میں ’نینو‘ ٹیکنالوجی سے ماحولیات، انسانی صحت اور حفاظت پر پڑنے والے اثرات کا معائنہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ طبی اور صنعتی تحقیق کے لیے نہایت ہی مفید ثابت ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہایت ہی چھوٹے درجہ پر اشاء کے غیر معمولی کردار کو بہتر مشینیں بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس سائنس کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے وائرس سے بھی چھوٹی مشینیں دنیا پر قبضہ کر کے اسے تباہ کر دیں گی۔ ماہرین کے مطابق ایسی باتیں بالکل غلط اور خیالی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||