BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیکنگ کے خلاف ایف بی آئی کی مہم
سائبر کرائم
ایف بی آئی کے مطابق سائبر کرائم سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے
امریکی تفتیشی بیورو ایف بی آئی کمپیوٹروں کی ’ہیکنگ‘ کے خلاف اپنی مہم میں دس لاکھ ایسے لوگوں سے رابطہ کر رہی ہے جو ’سائبر کرمنلز‘ کا شکار بنے ہیں۔

(ہیکنگ وہ عمل ہے جس کے ذریعہ سائبر کرمنلز یا جرائم کے لیے کمپیوٹروں کا استعمال کرنے والے لوگ آپ کو خبر ہوئے بغیر ہی آپ کا کمپیوٹر اپنی کرتوتوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور یہ کام کسی بھی جگہ سے کیا جاسکتا ہے، آپ کے کمپیوٹر کے قریب ہونا ضروری نہیں۔)

یہ کارروائی ایف بی آئی کی پہلے سے جاری اس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت کمپیوٹروں کے ذریعہ کئے جانے والے جرائم کے لیے عام لوگوں کے کمپیوٹروں کا ان کی مرضی کے بغیر استعمال روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایف بی آئی نے کمپیوٹروں کے ایسے نیٹورکوں کا پتہ لگایا ہے جنہیں لوگوں کے پاس ورڈ چرانے اور ویب سائٹس کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایجنسی کے مطابق اس طرح کے نیٹورک قومی سلامتی کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔

اس مہم کے تحت اب تک دس لاکھ سے زیادہ ایسے کمپیورٹوں کا پتہ لگایا جاچکا ہے جو غیر قانونی کاموں میں ملوث کسی نہ کسی نیٹورک کا حصہ ہیں۔

ایجنسی کے مطابق وہ ان کمپیوٹروں کے مالکان سے رابطہ کر رہی ہے جن کے کمپوٹر جرائم کے لیے استعمال کئے گئے ہیں تاکہ ہیکرز کے طریقہ کار کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کی جاسکے۔

ایف بی آئی کی سائبر ڈویژن کے نائب سربراہ جیمز فنچ کہتے ہیں کہ زیادہ تر لوگوں کو تو اس بات کا علم تک نہیں ہوتا کہ ان کا کمپیوٹر کوئی اور بھی استعمال کر رہا ہے یا ان ذاتی اور حساس معلومات تک کسی اور کو بھی رسائی حاصل ہے۔

اگر ایسی ای میل آئے تو اسے نہ کھولنا ہی بہتر ہے

زیادہ تر لوگ اس جال میں کوئی ایسی ای میل کھول کر پھنستے ہیں جس میں کوئی وائرس ہوتا ہے جو آپکی ذاتی معلومات ای میل بھیجنے والے شخص تک پہنچا سکتا ہے۔

بہت سے جرائم پیشہ لوگ ویب سائٹس کی ہو بہو نقل انٹرنیٹ پر پوسٹ کردیتے ہیں اور جب آپ ان ویب سائٹس کو غیر دانستہ طور پر استعمال کرتے ہیں، اتو انہیں آپ کا پاس ورڈ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے جرائم کے لیے عام طور بینکوں کی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ایف بی آئی کی مہم کے تحت اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے ایک شخص رابرٹ ایلن سولاوے ہیں، جنہیں تمام جرائم کا مرتکب پائے جانے کی صورت میں پینسٹھ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ایجنسی نے اپیل کی ہے کہ کمپیوٹر مالکان وائرسوں سے تحفظ کے لیے اچھے سافٹ ویر استعمال کریں۔

ماہرین کےمطابق یہ پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ آپ کا کمپیوٹر ناجائز طور پر استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اگر آپ کا کمپیوٹر بہت سست ہو گیا ہے، یا آپ کے علم کے بغیر آپ کا کمپیوٹر دوسرے کمپیوٹروں کو میل بھیج رہا ہے تو آپ کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔

انٹرنیٹانٹرنیٹ سنسرشپ
انٹرنیٹ سنسرشپ کرنے والی ریاستوں میں اضافہ
بلوچ ویب سائٹویب سائٹیں بند
باغیانہ مواد کی اجازت نہیں دے سکتے: وزیر
نابیناؤں کے لیے انٹرنیٹ کیفےنظر کی وسعت
اسلام آباد میں نابیناؤں کے لیے انٹرنیٹ کیفے
انٹرنیٹیورپ میں انٹرنیٹ
ایک سو بائیس ملین یورپی روزانہ آن لائن
اسی بارے میں
سی آئی اے بے نقاب
13 March, 2006 | آس پاس
انٹرنیٹ سنسرشپ میں اضافہ
18 May, 2007 | نیٹ سائنس
سرچ انجن یا گھر کا بھیدی؟
02 June, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد