انٹرنیٹ سنسرشپ میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹورنٹو، ہاورڈ لاء سکول، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کے محققین پر مشتمل ادارے اوپن نیٹ انیشیٹو (او این آئی) کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر ریاستی سنسرشپ بڑھ رہی ہے۔ تحقیق کے دوران انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ایک سو بیس اداروں کی مدد سے کام کرنے والی ہزاروں ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جائزے میں شامل پینتالیس میں سے پچیس ممالک میں انٹرنیٹ پر چھپنے والے مواد کی چھانٹی کی جا رہی ہے۔ جائزے کے مطابق جن ممالک میں انٹرنیٹ مواد کی چھانٹی یا سنسرشپ کی جا رہی ہے ان میں بھارت، پاکستان، چین، ایران، شام، لیبیا، اردن، مراکش، سعودی عرب، برما اور کئی وسط ایشیائی اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔ سال دو ہزار دو میں ریاستی سرپرستی میں انٹرنیٹ سنسرشپ بمشکل چند ریاستوں میں کی جا رہی تھی۔ ہاورڈ کے جان پیلفرے کا کہنا ہے کہ پانچ سالوں میں اس طرح کی سنسرشپ کرنے والی ریاستوں کی تعداد دو سے پچیس ہو گئی ہے۔
جائزے میں ایسے ممالک کو شامل کیا گیا جہاں ایسی سنسرشپ کا اندازہ لگانا آسان تھا اور ’جہاں حکومتوں کی آن لائن سنسرشپ کے بارے میں جاننا بھی مطلوب تھا‘۔ سروے کے مطابق پاکستان، برما، ایران، سعودی عرب، شام، تیونس، متحدہ عرب امارات اور یمن میں وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ سنسرشپ کی جا رہی ہے۔ او این آئی کے مطابق انٹرنیٹ مواد کی چھانٹی یا سنسرشپ کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں سیاست اور اقتدار، سکیورٹی تحفظات اور سماجی اخلاقیات۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ سنسرشپ اختیار کرنے والی ریاستوں کی تعداد میں بڑھتے ہوئے اضافے سے دنیا کے مختلف کونوں میں بسنے والے افراد کے درمیان روابط اور معلومات کا تبادلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ جان پیلفرے کے مطابق زیادہ تر سنسرشپ بغیر بتائے کی جاتی ہے اور اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں جا کر کوئی بھی شہری ریاست سے پوچھ سکے کہ سنسرشپ کیوں، کیسے اور کس طرح کے مواد کی کی جا رہی ہے۔ |
اسی بارے میں چین: انٹرنیٹ پر کنٹرول کی کوششیں26 April, 2007 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کنٹرول پر چین کا دفاع16 February, 2006 | نیٹ سائنس ایف بی آئی کا جعلی وائرس24 November, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول15 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||