BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ سنسرشپ میں اضافہ
انٹرنیٹ
ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں جا کر ایک شہری پوچھ سکے کہ سنسرشپ کیوں کی جا رہی ہے
ٹورنٹو، ہاورڈ لاء سکول، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کے محققین پر مشتمل ادارے اوپن نیٹ انیشیٹو (او این آئی) کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر ریاستی سنسرشپ بڑھ رہی ہے۔

تحقیق کے دوران انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ایک سو بیس اداروں کی مدد سے کام کرنے والی ہزاروں ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جائزے میں شامل پینتالیس میں سے پچیس ممالک میں انٹرنیٹ پر چھپنے والے مواد کی چھانٹی کی جا رہی ہے۔

جائزے کے مطابق جن ممالک میں انٹرنیٹ مواد کی چھانٹی یا سنسرشپ کی جا رہی ہے ان میں بھارت، پاکستان، چین، ایران، شام، لیبیا، اردن، مراکش، سعودی عرب، برما اور کئی وسط ایشیائی اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔

سال دو ہزار دو میں ریاستی سرپرستی میں انٹرنیٹ سنسرشپ بمشکل چند ریاستوں میں کی جا رہی تھی۔ ہاورڈ کے جان پیلفرے کا کہنا ہے کہ پانچ سالوں میں اس طرح کی سنسرشپ کرنے والی ریاستوں کی تعداد دو سے پچیس ہو گئی ہے۔

سنسرشپ کیوں؟
 سنسرشپ کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں سیاست اور اقتدار، سکیورٹی تحفظات اور سماجی اخلاقیات
او این آئی

جائزے میں ایسے ممالک کو شامل کیا گیا جہاں ایسی سنسرشپ کا اندازہ لگانا آسان تھا اور ’جہاں حکومتوں کی آن لائن سنسرشپ کے بارے میں جاننا بھی مطلوب تھا‘۔

سروے کے مطابق پاکستان، برما، ایران، سعودی عرب، شام، تیونس، متحدہ عرب امارات اور یمن میں وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ سنسرشپ کی جا رہی ہے۔

او این آئی کے مطابق انٹرنیٹ مواد کی چھانٹی یا سنسرشپ کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں سیاست اور اقتدار، سکیورٹی تحفظات اور سماجی اخلاقیات۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ سنسرشپ اختیار کرنے والی ریاستوں کی تعداد میں بڑھتے ہوئے اضافے سے دنیا کے مختلف کونوں میں بسنے والے افراد کے درمیان روابط اور معلومات کا تبادلہ متاثر ہو سکتا ہے۔

جان پیلفرے کے مطابق زیادہ تر سنسرشپ بغیر بتائے کی جاتی ہے اور اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں جا کر کوئی بھی شہری ریاست سے پوچھ سکے کہ سنسرشپ کیوں، کیسے اور کس طرح کے مواد کی کی جا رہی ہے۔

ریبا کی ڈائری
06: سنسر شپ اور انٹرنیٹ صارفین کا سال
گوگلکوئی اور ڈھونڈ لو
گوگل کا محکمۂ انصاف کی بات ماننےسے انکار
ٹیلیفون کال کی ٹیکنالوجی ’وائس اوور آئی پی‘
انٹرنیٹ فون میں ہیکروں کی دلچسپی
انٹرنیٹنیٹ کا انچارج کون؟
نیٹ کے انتظامی سربراہ کے مسلے پر اختلافات
فائل فوٹوانٹرنیٹ کا مستقبل
نیٹ کے نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت
’بابائےویب‘ کواعزاز
ورلڈ وائڈ ویب کے موجد کو نائٹ ہڈ کااعزاز
اسی بارے میں
انٹرنیٹ کنٹرول پر چین کا دفاع
16 February, 2006 | نیٹ سائنس
ایف بی آئی کا جعلی وائرس
24 November, 2005 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول
15 November, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد