BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 November, 2005, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف بی آئی کا جعلی وائرس
پیرس ہلٹن
وائرس کی ایک قسم پیرس ہلٹن کی فلم دکھانے کی پیشکش کرتی ہے
انٹرنیٹ پر غیر قانونی ویب سائٹس استعمال کرنے والوں کو خبردار کرنے والا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یہ وائرس خفیہ ایجنسیوں ایف بی آئی، سی آئی اے یا جرمن بی کے اے کی طرف سے ایک جعلی پیغام جاری کرتا ہے کہ آپ کو نیٹ کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔

اس پیغام کے ساتھ ایک سوالنامہ بھی شامل ہوتا ہے جسے کھولنے والے سوبر وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وائرس کا تدارک کرنے والی کمپنیوں نے اس کی لاکھوں کاپیاں پکڑی ہیں جس سے پتا چلا ہے کہ بہت سے لوگ اس کا شکار بن چکے ہیں۔

یہ وائرس 22 نومبر کو پھیلنا شروع ہوا اور صرف چوبیس گھنٹے کے دوران اس نے تیس لاکھ سے زائد کمپیوٹر اپنی زد میں لے لیے۔ منگل کی شام تک اس کی ستر لاکھ کاپیاں پھیل چکی تھیں۔

یہ وائرس ایک ای میل میں موجود ہے جس کا عنوان ہے ’آپ نے غیر قانونی ویب سائٹ کا استعمال کیا ہے‘۔

اس پیغام کے متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایف بی آئی، سی آئی اے یا بی کے اے کی جانب سے ہے جس نے اس صارف کو 30 غیر قانونی سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے پایا ہے۔ اس کے بعد صارف سے کہا جاتا ہے کہ وہ پیغام کے ساتھ منسلک سوال نامہ کھولے اور اسے پر کرے۔

جو صارف اس سوالنامے کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے اس کا کمپیوٹر وائرس سے متاثر ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ وائرس اس کمپیوٹر سے مزید ای میل کے پتے حاصل کر کے پیغام کو مزید آگے بھیج دیتا ہے۔

اس ضمن میں ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ پیغام ایف بی آئی کی جانب سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ادارہ لوگوں کو اس طرح غیر ضروری پیغام بھیجتا ہے۔

یہ وائرس اور بھی کئی طریقوں سے اور مختلف شکلوں میں آتا ہے۔ اس طرح کا ایک وائرس پیرس ہلٹن کی فلم دکھانے کی پیشکش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پاس ورڈ بدلنے کے پیغامات یا ای میل میں خرابی کے پیغامات میں بھی وائرس کی موجودگی کا خطرہ موجود ہے۔

وائرس کا تدارک کرنے والی ایک کمپنی ایف سیکیور کا کہنا ہے کہ یہ اس سال کا بد ترین وائرس ہے۔ اس کے زیادہ تر شکار شمالی امریکہ کے علاقے میں ہیں۔

اس وائرس کے پھیلاؤ میں بدھ کے روز کمی واقع ہوئی ہے تاہم وائرس سے بچاؤ کی کمپنیوں کا مشورہ ہے کہ صارفین اپنے کمپیوٹر کو وائرس سے بچانے کے لیے از سر نو انتظام کرلیں۔ اس کے علاوہ غیر متعلقہ پیغامات کو کھولنے سے پرہیز کریں۔

اسی بارے میں
سپر کمپیوٹر کا نیا ریکارڈ
26 March, 2005 | نیٹ سائنس
کمپیوٹر اب 9990 روپے میں
02 August, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد