کمپیوٹر اب 9990 روپے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت مدراس میں بھارت کا پہلا سستا پرسنل کمپیوٹر سامنے آیا ہے۔ اس کمپیوٹر کو آئی ٹی کمپنی ایچ سی ایل نے بنایا ہے اور اس کی قیمت صرف نو ہزار نو سو نوے روپے رکھی گئی ہے۔ اس کمپیوٹر میں ایک نئے صارف کو درکار تمام بنیادی سہولیات شامل کی گئی ہیں۔ اس کمپیوٹر کے آنے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ بھارت میں کمپیوٹر کی کھپت میں اضافہ ہو گا۔ بھارتی حکومت کافی عرصے سے کمپیوٹر کی قیمت کو دس ہزار روپے سے کم کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ کمپیوٹر ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ کم قیمت کمپیوٹر کی دستیابی سے ملک بھر میں کمپیوٹر صارفین کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کے استعمال میں بھی تیزی آئے گی جو کہ ملکی ترقی کے لیے مفید ہو گی۔ بھارت کےمواصلات اور آئی ٹی کے وفاقی وزیر دیاندھی مران کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس کمپیوٹر کو استعمال کیا ہے اور وہ اس سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ کمپیوٹر نئے صارف کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے اور مستقبل میں اس کی استعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے‘۔ کمپیوٹر تیار کرنے والی کمپنی ایچ سی ایل کے سربراہ اجے چودھری کا کہنا تھا کہ اس کم قیمت کمپیوٹر کی بڑی تعداد میں کھپت سے یہ کمپنی کے لیے ایک متوازن پراڈکٹ ثابت ہو گا۔ اس وقت بھارت میں پندرہ ملین کمپیوٹر صارفین ہیں جن میں سے پانچ ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت اس تعداد کو2010 تک پچھہتر ملین کمپیوٹرصارفین اور پینتالیس ملین انٹر نیٹ صارفین تک بڑھانا چاہتی ہے۔ بھارتی وزیرِ مواصلات کا کہنا تھا کہ’ اس تعداد تک پہنچنے کے لیے کم قیمت کمپیوٹر نہایت مددگار ثابت ہو گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دیگر کمپنیاں بھی کم قیمت کمپیوٹر بنانے میں دلچسپی لیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||