سافٹ ویئر پیٹنٹ کا بل مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی سیاستدانوں نے اس متنازعہ بل کو مسترد کر دیا ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر سافٹ ویئرز کو پیٹنٹ کیا جا سکتا تھا۔ یورپی پارلیمان نے اس بل کو 14 کے مقابلے میں 648 ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کیا۔ یورپی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ یہ بل اپنی موجودہ شکل میں کسی کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں مزید کوئی بل نہیں پیش کرے گا۔ اس بل کے حمایت کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری تحقیق اور ترقی کے ثمرات کے تحفظ کے لیے بہت ضروری تھی جبکہ اس بل کے مخالفین کا خیال ہے کہ اگر یہ بل منظور کر لیا جاتا تو یہ چھوٹے کاروباری اداروں اور اوپن سورس ڈویلپرز کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنتا۔ برطانیہ کی ہائی ٹیک کمپنیوں کی تجارتی تنظیم ’ انٹلیٹکٹ‘ نے اس بل کے مسترد کیے جانے کی حمایت کی ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل جان ہگنز کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کو ہی جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ موجودہ نظام نے برطانوی ہائی ٹیک کمپنیوں کے مفادات کا بہترین تحفظ کیا ہے اور انہیں موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے ثمرات کا فائدہ اٹھ سکیں اور اپنی تحقیق کو استحصال سے بھی محفوظ رکھ سکیں۔‘ پیٹنٹ اٹارنی ڈاکٹر جان کولنز کا کہنا تھا کہ ’ یہ فیصلہ سافٹ ویئر پیٹنٹ کے مخالفین کی فتح نہیں ہے بلکہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ یورپ میں سافٹ ویئر پیٹنٹ سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں سافٹ ویئر کے جملہ حقوق ویسے ہی محفوظ کیے جاتے رہیں گے جیسے گزشتہ تیس برس سے ہوتے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||