بالی میں ماحولیات پر اہم کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں آج یعنی پیر سے ماحولیات کے حوالے سے ایک اہم کانفرنس شروع ہو رہی ہے جس کے بارے میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس میں ہونے والے مذاکرات آئندہ ماحولیات پر عالمی پالیسی تشکیل دینے کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ سن 2012 میں کیوٹو معاہدہ ختم ہو رہا ہے اور کوششیں جاری ہیں کہ اس کی جگہ لائے جانے والے معاہدے پر اتفاقِ رائے ہو جائے۔ بالی میں ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کوئی ہدف مقرر کرنا ضروری بھی یا نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیات کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بالی کانفرنس میں امریکہ کا کردار نہایت اہم ہو گا۔ بالی میں ہونے والی اس دو ہفتے کی کانفرنس میں اس بات پر بحث کی جائے گی کہ کس طرح غریب ملکوں کی مدد کی جائے کہ وہ عالمی حدت سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا مقابلہ کر سکیں۔
دریں اثناء صدر بش نے جو قوانین کی جگہ ٹیکنالوجی پر ضرور دیتے ہیں کہا ہے کہ 2005 کے مقابلے میں 2006 میں امریکہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 1.5 فیصد تک کمی آئی ہے۔ یاد رہے کہ اس برس جون میں جی ایٹ اجلاس کے موقع پر صدر بش نے گیسوں کے اخراج میں قابلِ ذکر حد تک کمی لانے اور 2009 کے آخر تک کیوٹو پروٹوکول کی جگہ نیا نظام لانے کے حوالے سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ |
اسی بارے میں ’آلودہ بادل بڑھتی گرمی کے ذمہ دار‘02 August, 2007 | نیٹ سائنس چین: ہر ہفتے میں دو کارخانے20 June, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||