’ماحولیاتی تبدیلی پر مل کر کام‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں منظر عام پر آنے والی نئی رپورٹ نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قدم اٹھانے کی وجہ فراہم کردی ہے۔ ’انٹرگورنرمینٹل پینل آف کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی)‘ کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رپوٹ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلے کرنے کے لیے حقیقی اور سستے راستے موجود ہیں۔ انہوں نے اگلے ماہ بالی میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں کوئی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی سی سی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی بالکل واضح ہے اور اس کی وجہ سے غیر متوقع اور ناقابل تبدل اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ ان اثرات میں گلیشیئرز کا تیزی سے پھگلنا اور جانداروں کی اقسام کا معدوم ہونا شامل ہے۔ سپین میں ایک ہفتےتک چلنے والی بات چیت کے بعد اقوام متحدہ کے سائنسدانوں کے پینل نے اس رپورٹ کے نکات پر اتفاق کیا جس کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بڑی تیزی سے زمین ایک گرم دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کی تیاری کے دوران سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک صدی قبل کی بہ نسبت اس وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پینل کے چیئرمین راجندرا پچوری نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے ہونے والے اثرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا:’اگر ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح اتنی ہی رہے جتنی کے اب ہے تو تحقیق کے مطابق سطح سمندر میں صفر اعشاریہ چار اور ایک اعشاریہ چار میٹر کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ پانی گرم ہونے سے پھیلتا ہے‘۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اس رپورٹ کا اجراء ولینسیا میں بان کیمون نے کیا۔ بان کیمون نے اس رپورٹ کے اجراء پر آئی پی سی سی اور اس کی تیاری میں شامل سائنسدانوں کو ماحولیات سے متعلق کام کرنے اور ادارے کو امن کا نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد دی۔ حقائق جاننے کی مہم کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے حال ہی میں انٹارکیٹیکا اور جنوبی امریکہ کا دورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا : ان کا کہنا تھا: ’ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے اثرات کو جان لینے کے بعد کہ وہ کس قدر شدید اورتیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں، ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا‘۔ بان کی مون کا کہنا تھا:’ آج دنیا کے سائنسدانوں نے ایک آواز میں بڑا واضح پیغام دیا ہے۔ بالی کانفرنس کے موقع پر میں امید کرتا ہوں کہ دنیا کے پالیسی ساز اسی قسم کا مظاہرہ کریں گے۔‘ رپورٹ کے اہم نکات میں سے چند یہ ہیں: ماحولیاتی تبدیلی واضح ہے، انسانی کارروائی کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نوے فیصد سے زائد ہے جو اس مسئلے کی بظاہراصل وجہ ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو معقول طریقے سے کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر عالمی درجہ حررات کی شرح میں ایک اعشاریہ پانچ سے دو اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا ہے تو کر ارض پر موجود جانداروں کی بیس سے تیس فیصد اقسام کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ رپورٹ کے دیگر اہم نکات میں سے چند درج ذیل ہیں: حال کے مقابلے میں مستقبل میں 75 سے 250 ملین افراد کو پینے کے تازہ پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بارش کے پانی سے ہونے والی زراعت کی پیداوار آدھی ہونے اور افریقہ میں خوراک کی کمی میں اضافے کے خدشات ہیں۔ سمندری مونگوں (کورل ریفس) پر ہونے والے وسیع تر اثرات۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ کے نتائج تین دسمبر کو بالی میں یو این کلائمٹ چینج کنوینشن اور کیوٹو پروٹوکول کے حوالے سے والی بات چیت کا حصہ ہوں گے۔ |
اسی بارے میں ماحولیاتی تبدیلیاں: سنجیدگی کا وقت02 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلیاں اور کمپیوٹر ماڈل 02 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی مسائل، انسان پر الزام02 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی اربوں کو خطرہ09 April, 2007 | نیٹ سائنس معاشی ترقی کیساتھ ماحولیاتی تبدیلی04 June, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی پر انڈیا متحرک13 July, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلیوں پر عالمی اجلاس04 August, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||