کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے عالمی معاشی بحران کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے کیش ریزرو ریکوائرمینٹ کو مزید کم کرکے چھ فیصد کر دیا ہے۔ یہ اعلان گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے جمعہ کو رات گئے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک نے فوری طور پر سی آر آر یا کیش ریزرو ریکوائرمینٹ کو مزید کم کر کے چھ فیصد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق سنیچر سے ہوگا۔ سی آر آر یا کیش ریزرو ریکوائرمینٹ بینکنگ کے نظام کا ایک ایسا ضابطہ ہے جو اس زر ضمانت کا تعین کرتا ہے جو تمام شیڈول بینکوں کو اپنے کھاتے داروں کی جانب سے جمع کرائی گئی رقوم کی ضمانت کے طور پر سٹیٹ بینک میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے بتایا کہ سی آر آر میں کمی کے نتیجے میں بینکنگ نظام میں مزید ساٹھ ارب روپے کا سرمایہ دستیاب ہوگا۔ اس سے پہلے گیارہ اکتوبر کو بھی سٹیٹ بینک نے سی آر آر میں کمی کا اعلان کیا تھا اور اسے نو سے آٹھ فیصد کر دیا تھا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے یہ بھی اعلان کیا کہ سی آر آر میں پندرہ نومبر کو پانچ فیصد پر لایا جائے گا تاکہ بینکوں کو زر ضمانت میں مزید سہولت ملے اور اس سے ایک سو بیس ارب روپے کا مزید سرمایہ دستیاب ہوگا۔ ’اس اقدام کے نتیجے میں مزید ایک سو بیس ارب روپے بینکوں کو دستیاب ہوں گے۔ اس طرح ہم مجموعی طور پر 240 ارب روپے کا سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔‘ گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ اقدامات مارکیٹ میں پائے جانے والے خدشات اور سرمائے کی کمی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے چھوٹے بینکوں کو فائدہ ہوگا جنہیں سرمائے کی کمی کے مسئلے کا زیادہ سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد بینکوں کو درمیانی اور طویل مدت کی سرمایہ کاری جاری رکھنے کی ترغیب دینا ہے۔ ’ہم چاہیں گے کہ اسٹیٹ بینک مارکیٹ میں ان اقدامات سے جو سرمایہ فراہم کررہا ہے اسے مؤثر طور پر استعمال کیا جائے یعنی اس سرمائے سے نجی اداروں اور لوگوں کی (بینکوں سے) قرضوں کی طلب کو مؤثر طور پر پورا کیا جائے۔‘ ’اس سلسلے میں ہم بینکوں سے کہیں گے کہ وہ جائیداد کی خریداری کے لئے قرضوں کی فراہمی کے لئے زیادہ سے زیادہ پیشگی رقوم (زر ضمانت) جمع کرانے کی پالیسی اپنائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بینکاری کا شعبہ مستحکم ہے اور غیرموافق اقتصادی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’بینکوں کی قرضہ دہی اور سرمایہ کاری اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ پروڈینشل ریگولیشنز سے مشروط ہیں جو بینکوں کو مقررہ حد سے زائد قرضے دینے اور غیرمعیاری اثاثوں میں سرمایہ کاری سے روکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک ملک کی فنانشل مارکیٹ کی مسلسل نگرانی کررہا ہے اور ادائیگی کے نظام اور مالیاتی نظام کو مستحکم بنانے کے لئے تمام ضروری پالیسی اقدامات کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بینکاری نظام میں سرمائے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کیے گئے یہ اقدامات عارضی ہیں اور انہیں مالیاتی پالیسی میں تبدیلی تصور نہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں سمندر پار سے رقومات میں اضافہ14 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان شرح سود میں ایک فیصد اضافہ29 July, 2008 | پاکستان پاکستان، بینک کی شرح سود سب سے زیادہ25 July, 2008 | پاکستان ضوابط کا اعلان، روپے میں بہتری09 July, 2008 | پاکستان کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی23 June, 2008 | پاکستان پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ31 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||