BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

سٹیٹ بینک
حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک سے قرضے لینے کی پالیسی پر تنقید
پاکستان کے مرکزی بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ملک میں سود کی شرح تیرہ فیصد ہوجائے گی۔

سٹیٹ بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے چھ ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کیا جو دسمبر تک جاری رہے گی۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں ملک میں معاشی صورتحال، افراط زر کی وجوہات اور اس پر قابو پانے کے لیے کوششوں کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی کو جاری رکھنا اور شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک سے قرضے لینے کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت کو یہ سلسلہ روک کر قرضے واپس کرنے کا سلسلہ شروع کرنا چاہیئے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پچیس دن میں حکومت نے بتیس ارب نوے کروڑ روپے کے قرضے لیے ہیں۔

ڈاکٹر شمشاد نے بتایا کہ سٹیٹ بینک کے بورڈ آف گورنرز نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومتی حکام سے قرضے کی واپسی کے لیے رابط کیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ قرضے کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا جائے اور فی سہ ماہی اکیاسی ارب روپے ادا کیے جائیں۔

انہوں نے تیل اور اجناس کی قیمتوں کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس سے توازن تجارت بہت منفی ہوگیا ہے اور جاری اکاونٹ خسارہ بھی بڑہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے اور توازن ادائیگی پر دباؤ کی وجہ سے رپے کے قدر میں بھی کمی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر شمشاد نے حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ افراط زر کی شرح میں تیس جون دو ہزار آٹھ تک ساڑے اکیس فیصد تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں صفر عشاریہ پانچ فیصد اضافے پر سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد