کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک ایکسچنج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حکومت کی جانب سے مالی امداد کی یقین دہانی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں ستائیس اکتوبر سے معمول کا کاروبار بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے جو ملک کی تمام سٹاک مارکیٹس کی نگرانی کرنے والے ادارے سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے حکام اور کراچی سٹاک ایکسچنج کے ممبران کے درمیان پچھلے چند دنوں سے جاری تھے۔ سٹاک مارکیٹ فروری کے مہینے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی اور 100 انڈیکس جس سے حصص یعنی شیئرز کے کاروبار میں اتار چڑھاؤ کا پتہ چلتا ہے، پندرہ ہزار پوائنٹس سے اوپر تھا لیکن جولائی کے مہینے میں سٹاک مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آگئی اور دو ہفتوں تک مسلسل مندی کے بعد سترہ جولائی کو جب 100 انڈیکس دس ہزار پوائنٹس کی سطح پر آگئی تو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چھوٹے سرمایہ کاروں نے کراچی سٹاک ایکسچنج کی عمارت میں توڑ پھوڑ کرکے پرتشدد احتجاج کیا اور مارکیٹ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد سٹاک ایکسچنج کی انتظامیہ نے بڑے سرمایہ کاروں کی مدد سے ایک فنڈ قائم کرکے مندی سے متاثر ہونے والے چھوٹے سرمایہ کاروں سے لگ بھگ سوا چار ارب روپے کے شیئرز خرید لیے۔ لیکن مارکیٹ پھر بھی نہ سنبھلی اور اگست کے مہینے میں جب 100 انڈیکس نو ہزار پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگیا تو کاروبار کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے ستائیس اگست کی کاروباری سطح یعنی نو ہزار ایک سو چوالیس پوائنٹس پر منجمد کردیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ پچھلے مہینے امریکہ میں جنم لینے والے مالی بحران کے منفی اثرات امریکہ اور یورپ سمیت دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور مارکیٹوں پر تو نظر آئے لیکن کراچی سٹاک ایکسچنج جو پہلے ہی سرمائے کی کمی کا شکار تھی، عالمی مالی بحران کے اثرات سے محفوظ رہی۔ سٹاک مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے کاروباری انجماد ختم ہونے کے بعد مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے بیس ارب روپے کا سرمایہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تاہم تجزیہ کار محمد سہیل کہتے ہیں کہ اسکے باجود اس بات کا قوی امکان ہے کہ مارکیٹ معمول کا کاروبار بحال ہونے پر مزید گرجائے گی۔ ’امکانات تو یہ ہیں کہ دو مہینے سے جب سے یہ فلور (کاروبار منجمد کرنے کا فیصلہ) لگا ہوا ہے تب سے بہت ساری تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ایک تو ملک کے معاشی حالات خراب ہوئے ہیں، زر مبادلہ کم ہوا ہے، آپ کا جو روپیہ ہے اسکی قدروقیمت مسلسل گررہی ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ میں جو بحران آیا ہے اس کا اثر ابھی مارکیٹ نے لیا نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ بیس ارب روپے کی سرکاری امداد مارکیٹ کو سنبھالا دینے کے لیے ناکافی ہے کیونکہ ان کے بقول مارکیٹ کو اس سے کہیں زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے۔ ’اگر حکومت پچاس ساٹھ ارب روپے مارکیٹ پر لگائے تو ممکن ہے کہ مارکیٹ صرف دس فیصد تک گرے۔‘ واضح رہے کہ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کے کاروبار کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا کیونکہ ملک میں کل 700 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور سٹاک مارکیٹ میں اسی فیصد کاروباردرجن بھر کمپنیوں کے شیئرز کا ہوتا ہے جو کہ زیادہ تر سرکاری شعبے کی کمپنیاں ہیں یا پھر آئل اینڈ گیس کے شعبے سے متعلق ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی: سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی20 August, 2008 | پاکستان پاکستان: سٹاکس میں زبردست تیزی19 August, 2008 | پاکستان بحران: سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان بحران: سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی، پھر مندی16 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی،شدیدمندی14 July, 2008 | پاکستان کےایس ای:انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||