سٹاک ایکسچینجز پر حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مشتعل سرمایہ کاروں نے حصص کی مارکیٹ کے کریش کر جانے کے بعد کراچی، اسلام آباد اور لاہور سٹاک ایکسچینجز پر دھاوا بول دیا۔ اس کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر لاہور اور اسلام آباد سٹاک ایکسچینجز کے سامنے بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے اسلام آباد سٹاک ایکسچینج کی عمارت کے سامنے ٹائروں کو آگ لگا کر بند کردیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کراچی سٹاک ایکسچینج کو عارضی طور پر بند کیا جائے تاکہ حصص کی گرتی ہوئی قیمتوں کو مزید گرنے سے روکا جا سکے۔ کے ایس ای سوموار سے چودہ فیصد نیچے آئی ہے جو کہ پچھلے اٹھارہ ماہ میں کم ترین ہے۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ادارے آگے آئیں اور حصص کی خریداری کرکے مارکیٹ کو ڈوبنے سے بچائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں مسلسل مندی سے ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے اور وہ دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق کراچی میں مظاہرین نے کے ای ایس ای کی عمارت کی کھڑکیاں توڑیں اور اس دوران دو افراد زخمی ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد صورتحال پر غور کرنے کے لئے کراچی سٹاک ایکسچنج کے ارکان کا ایک اجلاس اس وقت جاری ہے جو بڑے سرمایہ کاروں نے بلایا ہے۔ کراچی میں احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین ٹریڈنگ ہال اور انتظامی بلاک میں داخل ہوگئے اور کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے توڑ دئے۔ اس دوران ہاتھا پائی میں بعض افراد معمولی زخمی بھی ہوئے۔ احتجاج کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور سٹاک ایکسچنج کے مین گیٹ اور دفاتر کے باہر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ احتجاج کے باعث حصص کا کاروبار معطل ہوگیا۔ اس سے قبل جب کاروبار شروع ہوا تو کے ایس ای 100 انڈیکس 436 پوائنٹس مزید گرگیا اور دس ہزار پوائنٹس پر پہنچ گیا لیکن بعد میں مارکیٹ کچھ سنبھلی اور دن کے اختتام تک 100 انڈیکس 10 ہزار 212 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مسلسل مندی کی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور اسکی تلافی کی کوئی راہ بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ مارکیٹ پر بعض مخصوص بڑے سرمایہ کاروں کی اجارہ داری ہے جو اپنے فائدے کے لئے نقصان چھوٹے سرمایہ کاروں کو منتقل کردیتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مارکیٹ میں مندی کے ذمہ دار میڈیا کے بعض ادارے بھی ہیں جنہوں نے پاکستان پر غیرملکی حملے کے امکانات کے حوالے سے خبریں نشر کرکے مارکیٹ میں خوف اور غیریقینی کی صورتحال پیدا کی ہے۔
بعض چھوٹے سرمایہ کاروں نے تجویز دی ہے کہ صورتحال بہتر ہونے تک سٹاک مارکیٹ کو کچھ دنوں کے لئے بند کردیا جائے تاہم بیشتر سرمایہ کاروں نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مارکیٹ میں مزید افراتفری پھیلے گی۔ ادھر جمعرات کی دوپہر تک کے ایس ای چار سو تینتیں سے زائد پوائنٹس تک گرگئی تھی۔ سرمایہ کاروں نے مطالبہ کیا کہ ٹریڈنگ کو روکا جائے تاکہ حصص مزید نہ گریں۔ ان کے مطالبے سے انکار پر انہوں نے توڑ پھوڑ شروع کردی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو بلایا گیا۔ پاکستان سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چییئرمین رضی الرحمان نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم صورتحال کو دیکھ رہے ہیں اور ٹریڈنگ بند نہیں کریں گے۔‘ ذیشان حیدر نے اسلام آباد سے بتایا کہ اسلام آباد سٹاک ایکس چینج میں بھی احتجاج کیا گیا۔ دفتر کے چھوٹے سرمایہ کاروں نے دفتر میں داخل ہو کر کاغذات نکال کر دفتر کے باہر جلائے گئے۔ وہیں پر موجود محفوظ عباسی نامی ایک شخص سے بات کی جو پندرہ برس سے سٹاک مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یکم جنوری دو ہزار آٹھ کو سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس پندرہ ہزار سات سو چالیس تھا جبکہ آج انڈیکس دس ہزار چالیس ہے جس کا مطلب ہے کھربوں روپوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ | اسی بارے میں سٹاک ایکسچینج کراچی، پھر مندی16 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی،شدیدمندی14 July, 2008 | پاکستان کے ایس ای: 615 پوائنٹس کی کمی 23 May, 2008 | پاکستان شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم18 March, 2008 | پاکستان ’حصص بحران کا زیادہ اثر نہیں پڑا‘22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||