BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 May, 2008, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کے ایس ای: 615 پوائنٹس کی کمی

سخت مانیٹری پالیسی کے اعلان کا بازار حصص پر منفی اثر پڑا ہے
پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی کے اعلان اور شرح سود میں اضافے پر حصص مارکیٹ نے منفی رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس میں 615 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کا جمعہ کی صبح آغاز ہی تین سو پوائنٹس کی کمی سے ہوا اور ایک وقت یہ مندی پونے سات سو پوائنٹس تک پہنچ گئی۔ بعد میں مارکیٹ میں کچھ بہتری آئی اور ہنڈریڈ انڈیکس 615 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ تیرہ پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

جمعہ کو دونوں سیشن میں پندرہ کروڑ چوہتر لاکھ روپے کو سودے ہوئے تھے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور ملک میں سیاسی غیر یقینی کی وجہ سے پہلے ہی گزشتہ دو ہفتوں سے مارکیٹ مندی کا شکار تھی، سٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی اور شرح سود اور پی ایل ایس کھاتیداروں کے منافع میں اضافے کی وجہ سے حصص مارکیٹ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ کراچی سٹاک ایکسچینج میں بینکوں کا تیس فیصد مقدار ہے۔

تجزیہ نگار مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کی دو صورتیں ہیں، یا سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جائے یا بغیر خطرے (رِسک فری انویسٹمنٹ) کے لیے بینکوں میں سرمایہ کاری کر کے اچھا منافع کمایا جائے۔ ’جب رِسک فری ریٹ اچھا ہوجاتا ہے تو سرمایہ کار یہ سوچتے ہیں کہ خطرہ کیوں مول لیں، اس وجہ سے بھی سرمایہ نکالا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں قرضے پر چل رہی ہوتی ہیں جب شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کی لیے وہ بہتر نہیں ہوتا، اس سے ان کے منافع میں کمی ہوجاتی ہے جس وجہ سے مارکیٹ بحران کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کے موجودہ بحران میں سٹیٹ بینک اور کچھ بروکر ملوث ہیں اور حکومت کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ اقدامات کیے جانے تھے تو شام کو پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت تھی، لگتا ہے کہ اس کا سٹاک ایکسچینج کے بروکروں کے ساتھ بھی ملی بھگت ہے۔
’مارکیٹ میں گزشتہ پندرہ روز سے بینکوں کے شیئرز میں فروخت کا رجحان نظر آرہا تھا، میوچل فنڈ انڈسٹری میں ایک دو بڑے لوگ ہیں، انہوں نے شیئرز فروخت کیے تھے، اس فروخت کا کوئی جواز بنتا نہیں تھا اب صورتحال واضح ہوگئی ہے۔‘

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک دو روز مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار رہے گی جس کے بعد اس میں بہتری کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے ملک کے مرکزی بینک نے جمعرات کو بنیادی شرح سود میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کا اضافہ کر دیا تھا۔ بینک کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف افراط زر کو قابو کرنے میں مدد ملے گی بلکہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو بھی سہارا ملے گا۔

گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی شرح رواں مالی سال میں اوسطاً ساڑھے دس فیصد بڑھ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ شرح رواں مالی سال کے آخر یعنی تیس جون تک گیارہ فیصد تک ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا حکومت سٹیٹ بینک سے اب تک ساڑھے نو سو ارب روپے کے قرضے لے چکی ہے جو ہدف سے بہت زیادہ ہے اور اس کا اثر زر کے پھیلاؤ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جس سے افراط زر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مرکزی بینک سے قرضہ لینے کے رجحان کو کم کرے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں اب تک تقریباً ساڑھے چودہ فیصد کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال جولائی سے مارچ تک روپے کی قدر میں تین اعشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی جبکہ مارچ سے اب تک روپے قدر ساڑھے دس فیصد گِر چکی ہے۔

مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام کھاتہ داوروں کو ان کی جمع شدہ رقم پر کم از کم پانچ فیصد شرح سے منافع کی ادائیگی کریں جبکہ ایسے اقدامات کیے جائیں گے جس سے بچت کے ذریعے بینکوں کے ڈپازٹس بڑھانے میں کھاتہ داروں کی حوصلہ افزائی ہو۔

اسی بارے میں
سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم
18 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد