پاکستان: سٹاکس میں زبردست تیزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد دوسرے روز منگل کو بھی پاکستان میں سٹاک مارکیٹ میں تیزی رہی اور بازارِ حصص میں کاروبار دو سو پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ پیر کو صدر مشرف کے نشری تقریر میں استعفے کے اعلان کے بعد بازارِ حصص میں اچانک تیزی آگئی تھی اور بازارِ حصص ساڑھے چارسو پوائنٹس سے کچھ زیادہ اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔ منگل کو بازارِ حصص میں کاروبار ایک سو اکہتر پوائنٹس کے مثبت رجحان سے شروع ہوا اور اس میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تاہم مارکیٹ کسی بھی لمحے منفی رجحان کی جانب نہیں گئی۔ جب کاروبار بند ہوا اس وقت کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس دو سو پوائنٹس اضافے کے ساتھ دس ہزار نو سوانیس کی سطح پر تھی۔ ماہرین سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سابق صدر کا سیاسی منظرنامے سے علٰیحدہ ہونا قرار دیتے ہیں جس کے بعد ملک میں گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری سیاسی چپقلش کا خاتمہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس کے دس ہزار پوائنٹس کی مجموعی سطح سے نیچے گِرنے کے امکانات معدوم ہیں۔ دوسری جانب منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر برقرار رہی جس میں پیر کو پرویز مشرف کے استعفے کے اعلان کے بعد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ منگل کو اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر چوہتر روپے رہی جوگذشتہ دنوں ستتر روپے تک گِرچکی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے استعفے کے بعد اب سیاسی غیریقینی کے خاتمے کی امید کی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف سٹاک مارکیٹ میں بہتری آئے گی بلکہ مجموعی معیشت بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہے لیکن اس کا انحصار حکومت کی معاشی و اقتصادی پالیسیوں پر ہوگا۔ پیر کو صدر پرویزمشرف نے جب اپنی تقریر شروع کی تو اس وقت کراچی سٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس دوسو سولہ پوائنٹس اضافے پر کاروبار کر رہا تھا۔ صدر جس وقت اپنے نو سالہ دور کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے تھے اس وقت کاروبار میں اضافہ کم ہوکر ایک سو سات پوائنٹس رہ گیا تاہم صدر کی جانب سے استعفے کے اعلان کے فوری بعد کاروبار میں دوسو اٹھاون پوائنٹس تک اضافہ ہوا جو بتدریج بڑھتا رہا اور کاروبارِ حصص چارسو ساٹھ پوائنٹس اضافے کے ساتھ 10,722 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار اظہر باٹلہ کا کہنا تھا کہ صدر کی تقریر جب شروع ہوئی تو دونوں پہلوؤں کی توقع تھی کہ وہ استعفٰی بھی دے سکتے تھے اور اٹھاون ٹو بی کا استعمال بھی کرسکتے تھے لیکن دونوں صورتوں میں اونٹ کو کسی کروٹ بیٹھنا تھا۔ سٹاک مارکیٹ کے ایک اور تجزیہ کار ظفر موتی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب مہنگائی کی جانب توجہ دینا ہوگی اور رمضان کی آمد سے قبل مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ | اسی بارے میں بحران: سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان بحران: سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی، پھر مندی16 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی،شدیدمندی14 July, 2008 | پاکستان کےایس ای:انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||