BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 August, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

کراچی سٹاک ایکسچینج
سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اس استعفے کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی استحکام کے بارے میں بے یقینی ختم ہوئی ہے
کراچی سٹاک مارکیٹ بدھ کو شدید مندی کی لپیٹ میں رہی اور بازارِ حصص میں کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس تین سو ترانوے پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 10,525 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جو پیر کو سابق صدر کے استعفے کے اعلان کے بعد ساڑھے چارسو پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔

ماہرین بازارِ حصص میں مندی کی وجہ حکمراں اتحاد میں سیاسی اختلافِ رائے کو قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری بڑی وجہ حکومت کی گِرتی ہوئی معیشت کی جانب عدم توجہی بتائی جارہی ہے۔

کراچی سٹاک ایکسچینج میں سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد دو روز تک بازارِ حصص میں تیزی رہی تھی اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس پیر اور منگل کو بالترتریب چارسو اور دوسو پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔

ماہرین کا خیال تھا کہ صدر کے استعفے کے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ برس سے جاری سیاسی بے چینی کا خاتمہ ہوا ہے اور اب معاشی استحکام آئے گا اور یہ ہی وجہ تھی کہ کراچی سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھا جارہا تھا۔

دو روز کی تیزی کے بعد اچانک بازارِ حصص میں مندی پر تبصرہ کرتے ہوئے مارکیٹ کے تجزیہ کار ظفر موتی کا کہنا ہے کہ دو دن قبل تک محسوس ہوا تھا کہ جیسے سیاسی چپقلش اب اپنے منطقی انجام کی جانب پہنچ چکی ہے اور مارکیٹ ردِعمل کے طور پر مثبت رجحان کی جانب چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو مارکیٹ میں مندی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب سیاسی محاذآرائی ایک سے دوسری جانب منتقل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

ان کے بقول کچھ اس قسم کی خبریں آرہی ہیں کہ حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں کے درمیان سیاسی معاملات پر کشیدگی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اطلاعات نے مارکیٹ میں امید اور مثبت رجحان کو متاثر کیا اور دوسری جانب ایک بین الاقوامی ادارے ایس این پی نے پاکستان کے حق میں منفی رپورٹ دی ہے اور کہا ہے کہ اب بھی پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی موجود ہے جس کی وجہ سے رُو بہ زوال معیشت کو بحال کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

مارکیٹ کے ایک اور تجزیہ کار اظہر باٹلہ نے کہا کہ امید کی جارہی تھی کہ حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سربراہان سابق صدر کے جانے کے بعد افہام و تفیہم سے مسائل کا حل نکالیں گے اور ملک کو آگے کی جانب لے کر چلیں گے اور وہ سب سے زیادہ ترجیح معیشت کو دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ منگل کو جس طرح حکمراں اتحاد کے درمیان مذاکرات ہوئے اس نے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو مایوس کیا اور بدھ کی صبح سے اس کا اثر کاروبار پر دیکھنے میں آیا۔

اسی بارے میں
سٹاک ایکسچینجز پر حملے
17 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد