BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2008, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موجودہ آپریشن میں باجوڑ اہم کیوں؟

باجوڑ ایجنسی
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو باجوڑ سے مسلح طالبان کا صفایا کرنا سب سے زیادہ اہم ہے
پاکستان کی جن قبائلی ایجنسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے ان میں سے باجوڑ ایجنسی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے سب سے ترقی یافتہ سمجھی جاتی ہے۔ باجوڑ ایجنسی کی تمام قبائلی علاقوں کے مقابلے میں شہرت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں کے بسنے والے زیادہ نرم خو اور پرامن ہیں۔

لیکن اس وقت فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو باجوڑ سے مسلح طالبان کا صفایا کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ یہاں سے’مبینہ شدت پسندوں کا صفایا کرنے سے مہمند ایجنسی، صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اور افغانستان میں شدت پسندی کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی۔‘

سرحد پار افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی اور پاکستان میں امریکہ کے خلاف پائی جانے والی عمومی نفرت دیگر قبائلی علاقوں کی طرح باجوڑ ایجنسی میں بھی بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس ایجنسی کی سماجی ساخت اور اسکی کھوکھ سے جنم لینے والی شدت پسندی کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

تقریباً نو لاکھ کی آبادی کے حامل باجوڑ ایجنسی میں دو بڑی اقوام رہتی ہیں جن میں سے ایک کو ترکھانی جبکہ دوسرے کو اتمان خیل کہا جاتا ہے۔اس ایجنسی میں مبینہ عسکریت پسندی کی جڑیں صرف ترکھانی قوم میں زیادہ مضبوط ہیں۔

باجوڑ
نو لاکھ کی آبادی کے حامل باجوڑ ایجنسی میں دو بڑی اقوام رہتی ہیں جن میں سے ایک کو ترکھانی جبکہ دوسرے کو اتمان خیل کہا جاتا ہے
ترکھانی قوم باجوڑ کی سات میں سے پانچ تحصیلوں ماموند، چمرکند، چہار منگ، سالارزئی اور ناوگئی میں آباد ہے جسکی کی کُل آبادی ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ طالبان کے زیادہ تر رہنماؤں اور کمانڈروں، جیسے کہ تحریک طالبان کے نائب امیر مولانا فقیر محمد، ترجمان مولوی عمر،ان کی قائم کردہ ’شرعی عدالتوں’ کے سربراہ مفتی بشیر اور جیش اسلامی نامی تنظیم کے سربراہ ولی الرحمن، کا تعلق تحصیل ماموند سے بتایا جاتا ہے۔

ترکھانی قوم میں عسکریت پسندی کی بڑی وجہ ان کی سرحدوں کا افغانستان کے ساتھ متصل ہونا بتایا جاتا ہے جہاں پر گزشتہ اڑتیس سال سے جنگ جاری ہے جبکہ اسکے مقابلے میں دو تحصیلوں اتمانخیل اور تحصیل برنگ میں آباد اتمان خیل قوم آبادی تقریباً تین لاکھ سے زائد بنتی ہے۔اس کی سرحدیں صوبہ سرحد کے ملاکنڈ اور ضلع دیر سے لگتی ہیں اور وہ ترکھانی قوم کے مقابلے میں افغانستان میں جاری جنگ کی تپش سے قدرے دور ہیں۔

خان اور ملک سسٹم کی مضبوطی ترکھانی قوم میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی دوسری ممکنہ وجہ بتائی جاتی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے خانوں اور ملکوں نے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ماضی میں ایسے ہتھکنڈوں سے کام لیا ہے جسکی وجہ سے وہاں پر ایک کُچلا ہوا طبقہ سامنے آیا جنہوں نے طالبان کی شکل میں ان مشران اور ملکوں کے خلاف ایسی کارروائیاں کی کہ انکی طاقت کمزور ہوگئی اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔جبکہ اتمان خیل قوم میں خان اور ملک اتنے طاقتور نہیں ہیں بلکہ جرگہ ہی مساوی بنیادوں پر قبائلی معاملات چلاتا ہے۔

باجوڑ ایجنسی
باجوڑ ایجنسی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے سب سے ترقی یافتہ سمجھی جاتی ہے
ایک اور وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ترکھانی قوم میں قبائلی بدلہ لینے کاتصور اتمانخیل قوم کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ جب کبھی کوئی شخص قتل کرتا ہے تو ترکھانی قوم میں قاتل کو عام معافی دینے کا تصور موجود ہے جسکی وجہ سے کسی شخص کو جرم کرنے سے پہلے عام معافی کی امید ہوتی ہے اس لیے وہ اسے کرنے سے نہیں کتراتا۔

جبکہ اتمانخیل قوم کے بارے میں ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ’ اتمانخیل قوم سے تعلق رکھنے والے شخص کی لاش قبر کی مٹی بھی ہضم نہیں کرسکتی ہے۔‘ یعنی چاہے دہائیاں لگ جائیں بدلہ ضرور لیا جاتاہے۔اتمانخیل قوم سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ جب وہ انیس سو ستر میں دسویں کے طالبعلم تھے اس وقت ایک شخص نے قتل کیا اور آج اڑتیس سال بعد بھی درجنوں بار جرگہ لیجانے کے باوجود مقتول کے خاندان کے سربراہ انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میں کمزور ہوں اس لیے بدلہ نہیں لے سکا لیکن میں نے اپنے بچوں کو وصیت کی ہے کہ جب بھی وہ یہ سمجھیں کہ ان میں بدلہ لینے کی قوت آگئی سو وہ لے لیں۔‘

اسی لیے لوگوں کا کہنا ہے کہ بدلے لینے کی اس سخت رسم کی وجہ سے اگر کوئی شخص طالبان کا حصہ بنتا بھی ہے تو کچھ کرنے سے قبل اس کے نتائج کے بارے میں ہزار بار سوچتا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں جو لاکھوں افغان مہاجرین آئے تھے ان میں سے پچانوے فیصد مہاجرین نے ترکھانی قوم کے علاقے میں پناہ لی تھی لہذا سویت یونین کے خلاف ’جہاد‘ کی تربیت پانے والےافراد یہاں رہے اور اس کے علاوہ ان میں سے زیادہ تر ’جرائم پیشہ گروہوں‘ کا حصہ بنے۔ فوجی آپریشن میں مصروف فوجی حکام کا دعوی ہے کہ طالبان کی صفوں میں افغانوں کی تعداد مقامی عسکریت پسندوں سے بھی زیادہ ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ان لاکھوں افغان مہاجرین میں سے صرف پانچ ہزار افغانوں نے اتمانخیل قوم کی سرزمین پر رہائش اختیار کی تھی۔باجوڑ ایجنسی کی ترکھانی قوم میں دینی عالموں کی تعداد بہت زیادہ بتائی جاتی ہے جبکہ اتمانخیل میں یہ رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

اکتوبر 2008 کی تصویر ایف سی باجوڑ
افغانستان سے دراندازی ہو رہی ہے: میجر طارق
سپلائی لائن کاٹ دی
لوئی سم پر قبضہ ’شہ رگ پر کاری ضرب‘
نیک محمدکمانڈر عمر کون؟
انہیں نیک محمد ثانی بھی کہا جاتا تھا۔
ڈرون کے حملے زیادہ
امریکہ نےقبائلی علاقوں میں حکمت عملی بدلی ہے
کمانڈر سے انٹرویو
جلال آباد میں امریکی کمانڈر سے گفتگو
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد