لوئی سم، ’عسکریت پسندوں کی سپلائی لائن کٹ گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران تین لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد سکیورٹی فورسز کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں جس سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اسے دور کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے ملکی اور غیرملکی صحافیوں کو باجوڑ کے دورے کرانے کا سلسلہ قدرے تیز کردیا ہے۔ سنیچر کو اسلام آباد سے آنے والے پچاس کے قریب صحافیوں کو پہلے باجوڑ کے صدر مقام خار میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل طاق خان نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے ہمراہ بریفنگ دی اور بعد میں انہیں ان علاقوں کا دورہ کرایا گیا جس کا سکیورٹی فورسز نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ بریفنگ میں میجر جنرل طارق نے صدر مقام خار سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور لوئی سم کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے بقول انہوں نے لوئی سم پر قبضہ کرکے اصل میں مبینہ عسکریت پسندوں کی’ شہ رگ پر کاری ضرب‘ لگائی ہے۔ ان کے بقول لوئی سم سٹریٹیجک لحاظ سے اس لیے اہم ہے کہ یہ افغانستان، مہمند ایجنسی ،ناوگئی اور چہارمنگ کو آپس میں ملاتا ہے اور اب عسکریت پسندوں کی سپلائی لائن کٹ گئی ہے۔ چار ویگنوں میں سوار صحافیوں کو لوئی سم کی طرف روانہ کردیا گیا۔کئی فوجی گاڑیوں پر مشتمل حفاظتی قافلہ آگے تھا۔جگہ جگہ کھڑے سکیورٹی فورسز کے اہلکار شدید فائرنگ کرتے تاکہ کہیں پر اگر مبینہ عسکریت پسند موجود ہیں انہیں یہ پیغام دیا جائے کہ سکیورٹی فورسز یہاں پر موجود ہیں۔ اس آپریشن میں حصہ لینے والے افسران متعدد مقامات پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے رہے۔ پچیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد لوئی سم پہنچے تو وہاں پر سو سے زائد دکانوں پر مشتمل بازار کو بلڈورز کے ذریعے زمین کے ساتھ ہموار کرتے دیکھا۔
ٹینک پر سوار سکیورٹی فورسز کے اہلکار تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عمارت کو نشانہ بنارہے تھے اور ہمیں بتایاگیا کہ یہاں سے گولیوں کی آوازیں آئی ہیں۔ آس پاس کے گاؤں میں کوئی بھی مقامی شخص نظر نہیں آیا۔یہاں زمین پر فوجی تھے اور فضاء میں گولیوں کی آوازیں۔ اس دوران میجر اعجاز نے صحافیوں کو بتایا کہ چھ اگست کو جب وہ سو اہلکاروں کے ہمراہ پہلی بار چیک پوسٹ قائم کرنے لوئی سم آئے تو طالبان نے ان کا محاصرہ کیا اور پیچھے سے انکی سپلائی لائن منقطع کرلی۔ وہ چار دنوں تک محاصرے میں رہے اور چند ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد ہی بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک گھنٹہ گزارنے کے بعد جب واپس رشکئی کے علاقے آئے تو یہاں پر اچانک شدید فائرنگ کاسلسلہ شروع ہوا۔ پہلے تو یہی بتایا گیا کہ فائرنگ سکیورٹی فورسز نے کی ہے لیکن جب گولیاں صحافیوں کے قریب لگیں تو پھر کہا گیا کہ مبینہ عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی ہے۔ اس کے بعد ہم ٹانک خطاء کے علاقے میں آئے جہاں پر کرنل جاوید بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے کیسے مبینہ عسکریت پسندوں سے ٹھکانے خالی کرائے۔ہم جس کچے مکان میں بیٹھے ہوئے تھے اس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ طالبان کا ٹھکانہ تھا۔ کرنل جاوید کا کہنا تھا کہ ابتداء میں مسلح طالبان کے ساتھ لڑنا قدرے مشکل تھا مگر بعد میں انہیں انکی جنگی حکمت عملی کی جب سمجھ آئی تو پھر انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح طالبان کو سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل تھا کہ انہیں علاقے کے بارے میں زیادہ جانکاری تھی اور انہیں مقامی لوگ کھانا پینا مہیا کرتے تھے۔انہوں نے سرنگیں کھودی تھیں اور حملے کے وقت بھاگ کر نکل جاتے تھے۔ان کے بقول وہ چھپے کسی ایک مکان میں تھے مگر سکیورٹی فورسز کو دھوکہ دینے کے لیے کسی دوسرے مکان میں دستی بم پھینک کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ وہاں ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں کو پشتو زبان میں عسکری تربیت دینے کی ایک کتاب دکھائی گئی جس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ مشتبہ ٹھکانے سے اسے بھی بعض دیگر چیزوں کے ساتھ قبضہ میں لیا گیا ہے۔اس کتاب میں راکٹ لانچر، مارٹر، میزائل، کلاشنیکوف اور دیگر جدید اسلحے کی تصاویر دی گئی تھیں اور ان کے استعمال کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ کتاب میں سٹیلائٹ فون کی تصویر دی گئی تھی جس کے مختلف حصوں کے نام بتائے گئے تھے اور اس کے استعمال کا طریقہ لکھا ہوا ہے۔اس میں کیمیائی ہتھیار بنانے میں استعمال ہونے والے کیمیائی عناصر جیسے فاسفورس، پوٹاشیم نائٹریٹ وغیرہ کے فارمولے دیئے گئے تھے اور اسکی مقدار اور دستیاب ہونے کے مقامات کی تفصیل کو ایک جدول میں ظاہر کیا گیا تھا۔ ’ فوجی تربیت برائے مجاہدین‘ کے نام سے اس کتاب پر پبلشر کا نام نہیں لکھا گیا تھا۔قبضہ میں مبینہ طور پر ملنے والی کتابوں میں مولانامسعود اظہر کی ’خطباتِ جہاد‘ کے نام سے بھی ایک کتاب دکھائی گئی جس کا دیباچہ کراچی کے بنوری ٹاؤن کے مقتول مہتم مولانا مفتی شامزئی نے لکھا ہے۔ | اسی بارے میں چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ12 September, 2008 | پاکستان تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ13 September, 2008 | پاکستان باجوڑ:’تازہ حملوں میں تیس ہلاک‘14 September, 2008 | پاکستان ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی جنگجو مرکز نشانہ‘16 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||