باجوڑ لڑائی کے بعد تباہی ہی تباہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ڈھائی مہینے سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان میدان ِجنگ بننے والی باجوڑ ایجنسی میں پہلے روز ہمیں صدر مقام خار سے بارہ کلومیٹر دور ٹانک خطاء، خزانہ موڑ، صدیق آباد پھاٹک اور نثار آباد کا دورہ کرایا گیا۔ انہی علاقوں سے ہی فریقین کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوا تھا۔ صدر مقام خار سے جب سفر کا آغاز کیا جائے تو ہر طرف جنگ کے آثار نظر آئنگے۔ خار سے صدیق آباد پھاٹک تک تو جابجا کچھ لوگ گھومتے ہوئے نظر آجائیں گے مگر آگے سکیورٹی اہلکار وں کے سوا کوئی عام شہری نہیں ملےگا۔ کیونکہ اس علاقے سے نوے فیصد لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ سڑک کے کنارے درختوں کو گرا دیا گیا ہے۔ مکئی کی فصلیں تباہ کردی گئی ہیں اور گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ جب ان علاقوں پر سکیورٹی فورسز نے قبضہ کیا تو مسلح طالبان یہاں سے چھپ کر ان پر حملہ کیا کرتے تھے۔ راستے میں باجوڑ کا سب سے بڑا سپورٹس کمپلیکس،گھی اور ماربل کے کارخانوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مورچے بنارکھے ہیں۔ ہمارے ڈرائیور سو کی رفتار سے گاڑی چلاتے رہے جس کی بڑی وجہ سڑک کے کنارے ریموٹ کنٹرول کے کسی ممکنہ حملے سے بچنا تھا۔ بارہ کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد جب ہم نثار آباد پہنچے تو وہاں پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں ایک ایسے گھر میں لے جایا گیا جو مسلح طالبان کے مشتبہ ٹھکانے بتائے گئے۔ وہاں پر ایک اہلکار نے ہمیں چند ایسے کچے مکانات دکھائے جن میں طویل اور گہری سرنگیں کھودی گئی تھیں۔اس اہلکار نے دو قسم کی سرنگیں دکھائیں۔ایک میں ان کے دعویٰ کے مطابق مسلح طالبان فضائی حملوں سے جان بچانے کے لیے پناہ لیتے تھے جبکہ دوسری قسم کی سرنگ کے ذریعے وہ حملے کے وقت کئی مکانوں سے گزر کر ایک نالے میں جانکلتے تھے۔ مرکزی سڑک سے اس نالے تک کھودی گئی سرنگ کی طوالت تقریباً سو میٹر تھی جبکہ گہرائی بارہ میٹر کے قریب تھی۔اہلکار کے ہمراہ بی بی سی کی ٹیم بھی ان گہری سرنگوں سے گزری۔ان سرنگوں میں کھڑے ہوکر نہیں بلکہ گھٹنوں کے بل چل کر جانا پڑا۔ ایک مقام پر پہنچ کر ایک سات فٹ کی کھلی جگہ نظر آئی جو فوجی اہلکار کے مطابق فضائی حملوں میں مسلح طالبان کی پناہ گاہ تھی جس میں بیک وقت دس سے بارہ افراد پناہ لے سکتے تھے۔ وہاں پر موجود بعض اہلکاروں نے ان مشتبہ ٹھکانوں کو طالبان سے خالی کرانے میں حصہ لیا تھا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے چالیس چالیس گز کے فاصلے سے بھی ایک دوسرے پر حملے کئے ہیں۔ اس جگہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلح طالبان نے قبضہ واپس لینے کے لیےتین مرتبہ حملہ کیا جسے پسپا کردیا گیا۔ ان علاقوں کے سفر کے بعد ہم واپس صدر مقام خار میں واقع باجوڑ اسکاوٹس قلعہ آگئے مگر رات ہوتے ہی یہاں سے بھاری توپخانوں سے گولے داغے جانے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ ہمیں قریب لےجایا گیا تو وہاں پر چھ توپخانے یکے بعد دیگرے انچارج کے حکم پر اپنے ہدف کو نشانہ بنائے رہے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ توپخانہ اکثر رات کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔ اسکی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دن کے وقت گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مسلح طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری ہوتی ہے اور انہیں متحد رہنے اور نقل و حرکت کرنے سے روکا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جب رات ہوتی ہے تو گن شپ ہیلی کاپٹر کارروائی روک دیتے ہیں اور اس دوران طالبان اپنے مشتبہ ٹھکانوں اور غاروں سے نکل کر نقل و حرکت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر انہیں بھاری توپخانوں کے ذریعے سے ایک دوسرے سے دور رکھا جاتا ہے۔ وہاں پر ایک اہلکار نے بتایا کہ جب ستمبر میں فوجی کارروائی کا آغاز ہوا تھا تو ان دنوں میں رشکئی، ٹانک خطاء، لوئی سم اور آس پاس کے علاقوں پر ایک دن میں پانچ سو کے قریب گولے داغے جاتے تھے تاہم اب سو یا ڈیڑھ سو گولے ہی فائر کیے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ12 September, 2008 | پاکستان تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ13 September, 2008 | پاکستان باجوڑ:’تازہ حملوں میں تیس ہلاک‘14 September, 2008 | پاکستان ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی جنگجو مرکز نشانہ‘16 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||