دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان |  |
 | | | حاجی عمر کو نیک محمد کے بعد طالبان کا سربراہ چنا گیا |
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اتوار کو ایک میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے تیس سالہ مقامی طالبان کمانڈر محمد عمر احمدزئی وزیر قبائل کے قبیلے اسپرکئے سے تعلق رکھتے تھے۔اسپرکئے قبیلے کے لوگ جنوبی وزیرستان کے علاوہ ضلع بنوں میں آباد ہیں۔ چھ سال قبل 2002 میں محمد عمر کی شکائی میں شادی ہوئی تھی۔ان کی ہلاکت کے بعد ان کے خاندان کی وارث ایک بیوہ اور ایک بیٹی ہیں۔ محمد عمر حاجی عمر گروپ کے ایک اہم کمانڈر تھے، کہا جاتا ہے کہ حاجی عمر کا گروپ اس وقت افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف برسرِپیکار ہے۔ محمد عمر نہ صرف نیک محمد کے خالہ زادہ بھائی تھے بلکہ ان کے ہم شکل بھی تھے۔ علاقے کے لوگ ان کو نیک محمد ثانی بھی کہتے تھے۔ محمد عمر اور نیک محمد دونوں نے طالبان کے دور میں افغانستان کے علاقے بگرام میں شمالی اتحاد کے خلاف ایک ہی محاذ پر لڑائی میں حصہ لیا اور دوہزار ایک میں شمالی اتحاد اور نیٹو افواج کے ہاتھوں طالبان کی شکست کے بعد دونوں پاکستان کے قبائلی علاقے آ گئے لیکن انہوں نے افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ نیک محمد بعد ازاں دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ایک گائیڈڈ میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے۔ نیک محمد کے ہلاک ہونے کے بعد حاجی عمر کو ان کا جانشین بنا دیاگیا اور محمد عمر بھی حاجی عمر کے گروپ میں شامل ہوا۔ محمد عمر کے خاندان کے کئی افراد پچھلے کئی سال سے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوہزار چار میں حکومت پاکستان نے ان کے بڑے بھائی عید خان کو غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں ایک معاہدے کے تحت رہا کیا گیا۔ حال ہی میں جاسوس طیاروں سے داغے جانے والے میزائل حملوں میں نہ صرف عید خان اپنی جان گنوا بیٹھے بلکہ ان کے تیسرے بھائی شکیم خان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ |