افغان حکومت کے طالبان سے مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات اکتوبر 2001 کو امریکہ کی سربراہی میں نیٹو ممالک نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو تب بھی ماہرین نے کہا تھا کہ امریکہ تاریخ کےگول چکر میں پھنس گیا ہے۔ اور اب افغانستان پر حملے کے سات سال مکمل ہونے سے صرف ایک روز پہلے افغانستان میں تعینات برطانوی فوج کے ایک کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں مکمل فتح ممکن نہیں ۔ کابل کے دروازے پر دس فرانسیسی فوجیں کو ہلاک کر کے طالبان نے کابل کے دروازے پر دوبارہ دستک دی ہے۔ طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ افغانستان میں طاقت ہی شورش کُچلنے کا واحد اور آخری حل نہیں ہے۔ ماضی میں افغانستان کے ہاتھوں تین مرتبہ شکست کے تجربے سےگزرنے والا برطانیہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے میں پیش پیش ہے۔برطانوی فوج نے سن دو ہزار پانچ میں جنوبی افغانستان میں طالبان کے ساتھ قبائلی مشران کی توسط سے معاہدہ کرکے موسی قلعہ کے علاقے کو چھوڑ دیا تھا۔ حال ہی میں افغان صدر حامد کرزئی نےطالبان رہنماء ملاعمر کو مذاکرات کی پیشکش کی جبکہ ذرائع ابلاغ میں یہ باتیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سعودی حکومت اس سلسلے میں سرگرم ہوگئی ہے۔ سابق طالبان رہنما جو اس وقت افغان حکومت کے حامی ہیں، فریقین کے درمیان ایک’ پُل‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان افراد میں طالبان کے سابق وزیر خارجہ مولوی وکیل احمد متوکل، پاکستان میں طالبان کے سفیر ملا ضعیف، سابق طالبان وزیر مملکت برائے تعلیم مولوی ارسلا رحمانی اور طالبان کی دورِ حکومت میں سعودی میں ڈپٹی سفیر قاضی حبیب اللہ اور دیگر شامل ہیں۔ کئی سابق اور موجودہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان سے مذاکرات اور انہیں افغان حکومت میں شامل کرنے پر ایک حد تک رضامند ہوگئے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط ختم کردے۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے ابھی تک اس بات پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔ طالبان دورِ حکومت کے ایک اہم رہنماء جو اپنا نام ظاہر کرنے سےگریز کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی نیٹو، امریکہ اور افغانستان، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کے اعلی سیاسی اور فوجی حکام سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ ان کے بقول سابق طالبان رہنماؤں نےان حکام کو تین بنیادی نکات پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ سابق طالبان رہنما نے تجویز کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں طالبان رہنماؤں کے اوپر لگائی جانے پابندیوں پر بات چیت ہونی چاہئے۔ جن طالبان رہنماؤں کے نام سکیورٹی لسٹ میں شامل ہیں یا ان پر دیگر پابندیایں لگائی گئی ہیں انہیں ہٹانا ہوگا تاکہ بات چیت کو بین الاقومی حثیت حاصل ہو جائے۔ دوسرے مرحلے میں مقدماتی معاملات پر بات ہونی چاہیئے کہ جن افراد کو گرفتار کر کے افغانستان اور گوانتانامو کے حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اس کا کوئی حتمی حل نکالنا ہوگا۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں افغانستان میں نظامِ حکومت پر بات چیت ہونی چاہیئے اسے زیرِ بحث لاکر ہی کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اتنا معلوم ہے کہ سعودی عرب کی حکومت ثالثی کردار ادا کرنے پر رضا مند ہوگئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مولوی وکیل احمد متوکل اور ملا ضعیف اس وقت سعودی عرب میں ہیں البتہ ان کے اس دورے کی نوعیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ تاہم دیگر طالبان رہنماؤں سے جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پس پردہ بات چیت ہو تو رہی ہے مگر میدانِ جنگ میں سرگرم طالبان مصالحت کے لیے اس لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ’افغانستان میں امریکہ کے دن اب گنے جا چکے ہیں لہذا شکست خوردہ’ دشمن‘ سے بات کر کے اس سے سانس لینے کا موقع دینا خود کشی کے مترادف ہوگا۔‘ بعض طالبان رہنماؤں نے بتایا کہ ’افغانستان میں ایران، پاکستان، چین اور روس کے امریکہ مخالف مفادات ہیں جو سبھی اپنے اپنے طریقے اور انداز سے طالبان کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ افغان سرزمین پر اسے مکمل ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے۔‘ ان کے بقول ان ممالک کی کوشش ہے کہ طالبان کی مزاحمت جاری رہے۔ طالبان کی شدید مزاحمت کاا اندازہ افغان امور کے ماہر اور گزشتہ انتیس سال سے افغانستان میں تعینات روسی سفارتکار کے اس تجزیہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’امریکہ چھوٹی موٹی لڑائیاں تو جیت سکتا ہے مگر جنگ نہیں۔‘ جب انیس سو اُناسی میں سابقہ سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو بیسوی صدی کے ممتاز مؤرخ ٹائن بی نے سوال اٹھایا تھا کہ’ افغانستان تاریخ کا ایک گول چوک ہے جہاں پر کوئی بھی قوت تادیر نہیں ٹھہری ہے کیا روس بھی آگے بڑھ جائے گا۔؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ تاریخ کے اس ’گول چوک‘ کو عبور کرنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||