عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | میجر جنرل طارق خان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران ایک بھی شہری ہلاک نہیں ہوا ہے |
پاکستان میں اعلی حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران نوے سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔ تاہم فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل طارق خان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران ایک بھی شہری ہلاک نہیں ہوا ہے۔ ایک اعلی حکومتی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں گذشتہ آٹھ ستمبر سے شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں نوے سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والے عام شہری سکیورٹی فورسز کی بمباری اور طالبان کی جانب سے داغے گئے راکٹ اور مارٹر گولوں کا نشانہ بنے ہیں۔ان کے بقول یہ ہلاکتیں صدر مقام خار، لوئی سم، چہار منگ اور دیگر علاقوں میں ہوئی ہیں۔ ان کے بقول مرنے والوں میں ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن کے زیادہ تر افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ دو دیگر اہلکاروں نے بھی نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو نوے سے زائد عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت فوجی آپریشن کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت سے انکار کرتی آرہی ہے۔گزشتہ ہفتے باجوڑ کے صدر مقام خار میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فرنٹئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل طارق خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ’ آپریشن کے دوران کوئی بھی عام شہری نہیں مارا گیا ہے اگر کوئی ہلاک ہوا بھی ہے تو وہ عام شہری نہیں بلکہ مبینہ عسکریت پسند ہوگا‘۔
 | عام شہریوں کو بچانے کی کوشش  سکیورٹی فورسز آپریشن شروع کرنے سے قبل مقامی انتطامیہ کے توسط سے پوری کوشش کرتی ہے کہ مقام لوگ علاقے چھوڑ دیں تاکہ کارروائی کے دوران عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچ سکے  میجر جنرل اطہر عباس |
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز آپریشن شروع کرنے سے قبل مقامی انتطامیہ کے توسط سے پوری کوشش کرتی ہے کہ مقام لوگ علاقے چھوڑ دیں تاکہ کارروائی کے دوران عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچ سکے۔ ان کے بقول باجوڑ ایجنسی کے سالارزئی کے علاقے میں کاروائی کے دوران عام شہریوں کو بہت کم نقصان پہنچا ہےجبکہ لوئی سم اور رشکئی کے علاقے میں لوگوں کے انخلا تک سکیورٹی فورسز نے کارروائی روکے رکھی اور جب مقامی انتظامیہ نے اجازت دی تو پھر آپریشن شروع کر دیا گیا۔ |