BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 November, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی عملداری نافذ کریں گے

صدر زرداری ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں اور سوات اور ملک کے دیگر حصوں میں جہاں کہیں بھی حکومت کی عملداری کو چیلنج کیا جائے گا وہاں حکومت پوری طاقت کے ساتھ شدت پسندوں کا مقابلہ کرے گی۔

سنیچر کوایوان صدر میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور صرف اُن افراد کےساتھ مذاکرات کیے جائیں گے جو ہتھیار پھینک کر حکومت کی عملداری کو تسلیم کریں گے تاہم حکومت شدت پسندوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی۔

صدر زرداری نے متعلقہ ادروں کو ہدایت کی کہ سوات اور دیگر علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے۔

اجلاس میں قبائلی علاقوں اور سوات میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نےاجلاس کے شرکاء کو شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور صوبہ سرحد کی اسمبلی کے کچھ ارکان بھی موجود تھے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان علاقوں میں شدت پسندوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا اور ملکی سالمیت کے دشمنوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

صدر زرداری نے صوبائی حکومت کو امن وامان کی بحالی کے لیے ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔

اجلاس میں صوبہ سرحد کی پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے بارے میں بھی متعدد فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں قبائلی علاقے میران شاہ میں امریکی طیاروں کی بمباری پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا اور صدر کا کہنا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حق صرف پاکستانی فوج کے پاس ہے۔

اُدھر پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کرنے پر لیت ولعل سے کام نہیں لے رہی۔

اپنے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں نے اس قرارداد پر عملدرآمد کے سلسلے میں کمیٹی کی تشکیل کے لیے اپنی اپنی جماعتوں کے ارکان کے نام سپیکر قومی اسمبلی کو دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا قیام جلد عمل میں آئے گا۔

اسی بارے میں
جرگوں پر حملوں میں اضافہ
06 November, 2008 | پاکستان
سوات خودکش حملے میں دو ہلاک
06 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد