BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرگوں پر حملوں میں اضافہ

فائل فوٹو
جند مہینوں میں تین مرتبہ قبائلی جرگوں کو مبینہ خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت نے فوج کی مدد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف قبائلی لشکر تشکیل دینے کی جو پالیسی تشکیل دی ہے اس کے بعد سے اب تک تین مرتبہ قبائلی جرگوں کو مبینہ خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان حملوں میں جرگے میں شامل بعض سرکردہ قبائلی مشران سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ان مبینہ خود کش حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان پچھلے مہینے اورکزئی ایجنسی میں ایک جرگے پر ہونے والے حملے میں ہوا جس میں مقامی لوگ سو سے زیادہ ہلاکتیں بتا رہے ہیں۔

اس سے قبل دو مارچ کو نیم قبائلی علاقہ درہ آدم خیل میں ایک مبینہ خودکش بمبار نے قبائلی جرگہ کو نشانہ بنایا تھا جس میں سینتالیس افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ جمعرات کو باجوڑ کے سالارزئی قبیلے پر ہونے والا حملہ اس نوعیت کا تیسرا حملہ تھا۔ اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہے۔

مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف مقامی لشکروں کو اٹھ کھڑا ہونے کے دیگر واقعات کو بھی اگر اس میں شامل کیا جائے تو مرنے والے مقامی لوگوں کی تعداد ایک سو تراسی تک بنتی ہے۔ ان تمام واقعات میں محض تیرہ مسلح طالبان مارے گئے ہیں۔

جرگوں پر مبینہ خودکش حملوں کے سوا باجوڑ ایجنسی کے سالارزئی ، چہار منگ اور سوات میں مقامی لوگوں اور مسلح طالبان کے درمیان وقتاً فوقتاً ہونے والی جھڑپیں بھی شامل ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز اور کئی اور مبینہ خودکش حملوں کی ذمہ داری تو تحریکِ طالبان کی جانب سے قبول کرلی جاتی ہے مگر جرگوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے والا گروہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔

عام طور پر جرگوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث گروہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے

اس پر شاید اس لیے بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے کہ جنازے اور مساجد کی طرح جرگہ بھی پشتونوں میں ایک مقدس ادارہ سمجھاجاتا ہے اور حمہ آور گروپ کے سرِعام سامنے آنے سے عام لوگوں میں اس کی ساکھ کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔البتہ اسکے ذریعے قبائلی مشران کو ہلاک کرنے کے علاوہ باقی زندہ بچ جانے والوں کے لیےخطرے کی گھنٹی بجا دی جاتی ہے۔

جرگوں پر ہونے والوں مبینہ خودکش حملوں کا موازنہ اگر ماضی قریب میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے اسی نوعیت کے حملوں کے ساتھ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ سکیورٹی فورسز کے مقابلے میں جرگے پر ہونے والے حملوں میں زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسکی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ایک وجہ شاید یہ ہو کہ گزشتہ کئی سالوں سے مبینہ خودکش حملوں کا نشانہ بننے والی پاکستانی سکیورٹی فورسز کو اس قسم کے حملوں سے نمٹنے کا تجربہ ہوگیا ہے۔اسے ایک حد تک حملہ آور کی حرکات سکنات، اسکے حملہ کرنے کی حکمت عملی وغیرہ کی سمجھ آگئی ہے۔اس کے مقابلے میں غیر منظم جرگوں کو کم حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جانی نقصان اس لیے بھی شاید کم ہے کہ یہ فورسز بنی بھی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہے لہذا وہ ہمہ وقت چوکس کھڑے رہتے ہیں جبکہ امن و امان برقرار رکھنا جرگے کا بطور ایک ادارہ کا ایک جُز ہے لہذا انہوں نے اسے ابھی تک ایک شدید خطرے کے طور پر قبول نہیں کیا ہے۔

ایک اور ممکنہ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار کسی چوکی، تھانے یا کسی اور حکومتی عمارت پر بہت قلیل تعداد میں تعینات ہوتے ہیں مگر قبائلی جرگے میں درجنوں بلکہ بعض اوقات تو کئی سو لوگ شریک ہوتے ہیں لہذا اس قسم کے حملے میں انہیں زیادہ جانی نقصان پہنچتا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے اہلکار سویلین کے مقابلے میں ایک مخصوص قسم کے یونیفارم میں ملبوس ہوتے ہیں اور انہیں عام شہریوں سے دور رہنے کی تربیت بھی ملی ہوتی ہے لہذا جب بھی کوئی عام شہری ان کی طرف بڑھتا ہے تو وہ انہیں نہ صرف آسانی سے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں بلکہ اس دوران دفاعی اقدامات بھی اٹھا لیتے ہیں۔

جبکہ درجنوں یا سینکڑوں افراد پر مشتمل جرگہ ایک کھلے میدان میں منعقد ہوتا ہے اور کسی کو بھی اس میں شامل ہونے سے نہیں روکا جاتا۔سبھی ایک ہی علاقے کے ہوتے ہیں انکی زبان، لباس اور عادات ایک جیسے ہوتے ہیں لہذا کسی بھی حملہ آور کے لیے یہ ایک آسان ہدف بن جاتا ہے۔

ایسے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائل میں برسرِ پیکار طالبان اور حکومت کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ ان کے آگے سمندر اور پیچھے کھائی ہے۔

اسی بارے میں
ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا
06 November, 2008 | پاکستان
چار شدت پسند، دو شہری ہلاک
14 October, 2008 | پاکستان
کوہاٹ ٹنل کھول دی گئی
28 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد