کوہاٹ ٹنل کھول دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے۔ کئی علاقوں میں زمینی کارروائی بھی جاری ہے جس میں پانچ شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کو کوہاٹ سے ملانے والی اہم سرنگ کوہاٹ ٹنل کو ایک ماہ کے بعد اتوار کی صبح ہلکے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اتوار کو باجوڑ کے صدر مقام خار کے مختلف علاقوں لوئی سم، رشکی، بائی چینہ اور خان خدار میں جیٹ طیاروں سے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔ فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ فضائی کارروائی کے علاوہ چارمنگ، ناؤگئی اور لوئی سم میں زمینی کارروائی بھی بدستور جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ خار کے قریب کئی علاقوں کو شدت پسندوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عنایت کلے اور صدیق آباد میں کرفیوں جاری ہے جس کی وجہ سے اشیاء خورد نوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور لوگ علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ادھر بنوں میں مقامی طالبان نے پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ جوابی فائرنگ میں ایک شدت پسند بھی مار اگیا ہے۔ میجر مراد کا کہنا تھا کہ کوہاٹ کے نیم قبائلی علاقے درہ ادم خیل میں سکیورٹی فورسز نے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جاپان دوستی ٹنل چھوٹی گاڑیوں کےلیے کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ پلوں کے مرمت مکمل ہونے تک بڑی گاڑیوں کو سرنگ استعمال کرنے کی اجازی نہیں ہوگی۔ مقامی انتظامیہ کےمطابق بھاری گاڑیوں کو کوتل کے پُرانے راستے سے گزارا جارہا ہے۔اور ٹنل لنک روڈ بھی بدستور بند ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی کے پیش نظر سرنگ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک کُھلی رہے گی۔ سرنگ گزشتہ ماہ سکیورٹی فوسرز کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملوں کے چند ماہ قبل اس سرنگ کے اندر ہونے والے خوکش بم حملے سے سرنگ کو شدید نقصان بھی پہنچا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ٹنل کے اندر تعمیراتی کام بھی جاری ہے جس کے باعث بڑی گاڑیوں کے اس میں سے گزرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ رات کے وقت ٹنل کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا جائے گا۔ پاک فوج کے ایک افسر نے دو روز قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ٹنل کے دورہ کے موقع پر بتایا تھا کہ شدت پسندوں کے حملے سے ٹنل کے اندرونی حصے کو خاصا نقصان پہنچا تھا تاہم پاک فوج کے انجینئروں نے دن رات کی محنت کے بعد اسے قابل استعمال بنا دیا ہے۔ سن دو ہزار تین میں چار سالہ مدت میں مکمل ہونے والی اس ٹنل کی تعمیر کے لئے جاپان کی حکومت نے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی تھی اور اسی تناسب سے اس سرنگ کو پاک۔جاپان دوستی ٹنل بھی کہا جاتا ہے۔ ایک اعشاریہ نو کلومیٹر طویل کوہاٹ ٹنل سڑک پر بنائی گئی پاکستان کی سب سے طویل سرنگ سمجھی جاتی ہے۔ اس سال جنوری میں شدت پسندوں نے اس ٹنل سے متصل سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کرنے کے بعد سرنگ پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ سرنگ تین روز تک شدت پسندوں کے قبضے میں رہی تھی۔ پاک فوج شمالی علاقوں میں جاری شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران رسد کی ترسیل کے لئے اسی ٹنل کو استعمال کرتی ہے۔ اسکے علاوہ شمالی علاقوں اور پشاور اور کراچی کے درمیان تجارتی راستے کے لئے بھی یہی سرنگ استعال ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں کوہاٹ سرنگ کی متبادل سڑک پر غور27 January, 2008 | پاکستان کوہاٹ میں کیبل نیٹ ورک بند 22 June, 2008 | پاکستان کوہاٹ میں ایک فوجی افسر کا قتل21 August, 2008 | پاکستان کوہاٹ: پچیس ایف سی اہلکار زخمی29 August, 2008 | پاکستان کوہاٹ قبائلی تصادم، متعدد ہلاکتیں27 March, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل آپریشن، ہلاکتوں کے متضاد دعوے27 January, 2008 | پاکستان فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ،حکومت کی تردید26 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||