BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 August, 2008, 05:48 GMT 10:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہاٹ: پچیس ایف سی اہلکار زخمی

پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا
پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا
پاکستان کے نیم قبائلی علاقے ایف آر کوہاٹ میں ایک نامعلوم شخص نے بارود سے بھری گاڑی کو ایف سی کیمپ میں داخل کرانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے کیمپ کے گیٹ کے سامنے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی الٹ گئی اور بارودی مواد ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ڈرائیور ہلاک ہوگیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے جمعہ کے روز ہونے والے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گاڑی میں خودکش حملہ آور تھا جو کیمپ کے اندر دھماکہ کرنے کے لیے آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی میں ایک زودار دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں خودکش حملہ آور ہلاک ہوگیا اور گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

کوہاٹ نیم قبائلی علاقے کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف سی کیمپ کے سامنے حملے میں دو راہ گیر ہلاک ہوئے جبکہ بیس سے پچیس ایف سی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زخمی اہلکاروں کو سی ایم ایچ کوہاٹ میں داخل کر دیاگیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز ان کے ایک ساتھی کمانڈر اجمل کو حکومت نے گرفتار کیا تھا جن کی رہائی کے لیے قبائلی جرگہ نے حکومت سے مذاکرات کی تھی لیکن حکومت نےان کی رہائی سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس انکار کے بعد وہ خودکش حملے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس خودکش حملے میں پچیس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

ادھر کوہاٹ میں ایک مقامی صحافی ممتاز بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے کیمپ جانے والے راستے کو بند کر دیا ہے۔ کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہاٹ اور پشاور کے درمیان ٹنل بھی بند ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ہوچکے ہیں جس میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی مارے گئے ہیں۔

مہاجروں کے لیے لنگرباجوڑ سے پیدل فرار
باجوڑ میں بمباری سے بچ کر پشاور پہنچنے والے
واہ: تدفین کے لیے تابوتاگست میں تشدد
بائیس دن، پانچ حملے، ایک سو انیس ہلاک
پاکستانی علماءعلماء کی خاموشی
طالبان سےنمٹنے کے لیے مشترکہ فتوے کی ضرورت
اسی بارے میں
سوات:گولہ باری سےہلاکتیں
24 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد