’ہائے مجھے کیا معلوم تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کاش میں زہر کھا لیتی لیکن میں اپنے لال کو سبزی لینے نہ بھیجتی۔ ہائے مجھے کیا معلوم تھا کہ میں اسے ہمیشہ کے لیے بھیج رہی ہوں۔ یہ الفاظ تھے سکینہ بی بی کے جس کا پچیس سالہ بیٹا محمد صادق بھی ان ایک درجن سے زائد افراد میں شامل تھا جو میلوڈی کے علاقے میں اتوار کی شام ایک خودکش حملہ آور کا نشانہ بنا۔ فتح جنگ سے تعلق رکھنے والی سکینہ بی بی ایک طویل عرصے سے اسلام آباد کے جی سکس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ غربت کی ماری اس عورت نے کئی کئی گھروں میں کام کرکے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹا کر اپنے پانچ بچے پالے اور انہیں پڑھایا لکھایا۔ محمد صدیق بی اے فائنل کا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر بار کا خرچہ چلانے میں مدد کے لیے ساڑھے تین ہزار روپے کے عوض ایک پراپرٹی ڈیلر کے ساتھ سیکٹر ایف ٹین میں کام بھی کرتا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اکثر جزوقتی ملازمت کرنے والوں کی طرح اس نے بھی کئی جگہ پر اچھی نوکری کی امید میں درخواستیں دے رکھی تھیں۔ لیکن قدرت کا اس کے لیے کوئی اور ہی منصوبہ تھا۔ چھٹی کا دن ہونے کے باعث چھ جولائی کی صبح وہ زیادہ وقت گھر پر ہی رہا۔ ہمسائے کے گھر لگے آموں کے پیڑ سے اس نے ان کی اجازت سے چند آم توڑے تاکہ اس کی بہن اس کے لیے اچھا سا اچار بناسکے۔ ایسے ان کے کئی ہمسائے بھی، جن میں سہیل اور ان کی بیوی بھی شامل تھیں صدیق کے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ قریبی سی ڈی اے ہسپتال پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب بہن بھائی بڑے شریف اور ایماندار لوگ تھے۔ مسز سہیل کا کہنا تھا: ’ہمیں نہیں معلوم ان کے ساتھ اللہ نے ایسا کیوں کر دیا۔ یہ تو بہت پیارا بچہ تھا۔’ صدیق پانچ بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ اس کی منگنی ہوچکی تھی۔ وہ ماں کے کہنے پر اتوار بازار سستی سبزی لے کر واپس بس میں لوٹا تھا۔ وہ پیدل گھر کی جانب رواں تھا کہ قریب ہی زوردار دھماکے نے اسے بھی اپنی دبوچ میں لے لیا۔ صدیق کے بھائی سے اس کی کوئی تصویر مانگی تو وہ کہنے لگا ’ارے تصویروں کی کیا کمی۔ میرے بھائی کو تو تصویریں بنوانے کا کافی شوق تھا۔’ میلوڈی کا یہ علاقہ کافی مصروف علاقہ ہے۔ دھماکے کا بظاہر ہدف تو پولیس اہلکار تھے تاہم اس سے محمد صدیق جیسے کئی عام شہری بھی لقمہ اجل بنے جن کا شاید ملکی کی موجودہ صورتحال سے کوئی زیادہ لینا دینا نہیں تھا۔ اس دھماکے میں قریب ہی ایک کھوکھے کے بزرگ مالک عبدالستار بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ نماز پڑھ کر واپس کھوکھے میں لوٹے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والے چھروں کا نشانہ بن گیا۔ اتوار کے حملے نے ایک مرتبہ پھر اس حکومت کے انتظامی مرکز سمجھے جانے والے شہر کو افسردہ کر دیا۔ نئی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد ملک کے دو بڑے خودکش حملوں کا نشانہ یہی شہر بنا ہے۔ دونوں میں عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی افراد میں شامل ہے۔ جب تک حکومت ملک میں اس قسم کے حملوں سے بچنے کے لیے کوئی موثر پالیسی اختیار نہیں کرتی محمد صادق اور عبدالستار جیسے لوگ بےوجہ قتل ہوتے رہیں گے۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں’خودکش حملہ‘ انیس ہلاک06 July, 2008 | پاکستان لال مسجد برسی،’القاعدہ کا پیغام‘04 July, 2008 | پاکستان شدت پسند کارروائیوں میں نیا موڑ16 March, 2008 | پاکستان ’اسلام آباد دھماکہ، انتقامی ردِ عمل‘ 16 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: تُرک خاتون ہلاک15 March, 2008 | پاکستان لاہور:فوجی کالج پر حملہ، چھ ہلاک 04 March, 2008 | پاکستان ’جہادی کی ماں کو پینشن فوج سے‘29 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||