اسلام آباد میں’خودکش حملہ‘ انیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خودکش حملے میں کم از کم انیس افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ ڈی آئی جی راولپنڈی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چودہ پولیس اہلکار شامل ہیں جن میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب پولیس سے اور چھ کا اسلام آباد پولیس سے ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ایک خود کش دھماکہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے لال مسجد میں ہونے والی کانفرنس میں داخل نہ ہو پانے پر پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس حملے میں فیصل آباد سے بلائے گئے پولیس کے دستے کے کم سے کم دس ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔ تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جس کی سربراہی آئی جی اسلام آباد اصغر رضا گردیزی کریں گے۔ وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے حملہ آور کی شناخت کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ روپیے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے لواحقین کو تین تین لاکھ روپیے دئے جائیں گے جو ان کے محکموں کی جانب سے دی جانے والی رقوم سے علیحدہ ہوں گے۔
مسٹر کمال شاہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ حملہ باڑہ میں جاری آپریشن کا رد عمل ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ یہ خودکش دھماکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ٹو میں واقع آبپارہ پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ جائے وقوعہ سے ایف آئی اے کی ٹیم نے شواہد اکٹھا کیے جنہیں فورینسک لیب بھیج دیا گیا ہے۔ ماہرین کےمطابق دھماکے سے جو گڈھا ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور کی بیلٹ میں کم سے کم دس کلو بارود تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور ایک سترہ سے اٹھارہ برس کی عمر کا نوجوان تھا جس نے چائے کے سٹال پر موجود پولیس اہلکاروں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حکام کے مطابق خودکش حملے میں مرنے والوں میں تھانہ سہالہ کے ایس ایچ او اور پنجاب پولیس کے دو اے ایس آئی بھی شامل ہیں۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ مرنے والوں کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے، قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور رہائشی عمارتوں کے مکین خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ یاد رہے کہ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کی برسی کے موقع پر علماء کنونشن کا انعقاد ہو رہا تھا اور اس حوالے سے شہر بھر میں سکیورٹی کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا۔ مسجد کی اردگرد کی سڑکوں اور گلیوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا اور دن بھر پولیس کے اہلکار اسلام آباد کی سڑکوں پر گشت بھی کرتے رہے۔ | اسی بارے میں باڑہ میں دھماکہ، سات ہلاک30 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد: کرنل کی بیوی، بچے قتل18 May, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ، سینکڑوں گرفتار16 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: تُرک خاتون ہلاک15 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||