سوات:گولہ باری سےہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سےجاری آپریشن میں گھروں پر مارٹر گولے گرنے اور دیگر واقعات میں گیارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ فوج نے طالبان کے اہم مرکز کو تباہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام سکیورٹی فورسز نے تحصیل کبل کے مختلف علاقوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے شدید گولہ باری کی۔ مقامی لوگوں کے مطابق کبل کے علاقوں توتانو بانڈئی، شاہ ڈھرئی اور گلوچ میں کچھ مارٹر گولے گھروں پر لگنے سے ایک خاتون سمیت سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد بھی شامل ہیں۔ تاہم سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر ناصر علی نے سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں شہریوں کی ہلاکت کی سختی سے تردید کی ہے۔ دریں اثناء اتوار کی صبح مٹہ کے علاقے میرہ میں چار نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے ہلاک ہونے والے افراد کی ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے ہلاکت کے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ خیال ہے کہ جان بحق ہونے والے افراد عام شہری ہیں۔
ادھر سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر ناصر علی نے دعوٰی کیا ہے کہ گزشتہ روز تحصیل کبل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے ایک اہم مرکز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول اس مرکز سے عسکریت پسند سوات میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے اور ان کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی میں چالیس سے پچاس عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں جن میں ان کے بقول غیر ملکی جنگجو چیچن، ازبک اور تاجک بھی شامل ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اپنے ایک تازہ بیان میں دعوی کیا ہے کہ تحصیل کبل میں سکیورٹی فورسز کی دو بکتر بند گاڑیوں کو تیل چھڑک کر نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دھمکی دی کہ ضلع بونیر میں چند دن قبل چھ طالبان جنگجوؤں کو قتل کرنے میں ملوث اعلٰی شخصیات کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف جلد ہی کارروائی ہوگی۔ واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل سوات سے ملحق ضلع بونیر میں تقریباً تین سو افراد پر مشتمل ایک لشکر نے چھ طالبان جنگجوؤں کو سر عام گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد بونیر میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔ | اسی بارے میں سوات:25 طالبان سمیت 30 ہلاک30 July, 2008 | پاکستان سوات:بم حملے میں پانچ اہلکار ہلاک02 August, 2008 | پاکستان سوات:سکول جلانے کا سلسلہ جاری07 August, 2008 | پاکستان سوات:سکول، سی ڈیز مارکیٹ تباہ15 August, 2008 | پاکستان سوات: مقامی رہنما سمیت 5 ہلاک21 August, 2008 | پاکستان واہ دھماکے: ستر ہلاکتیں، مقدمہ درج21 August, 2008 | پاکستان لاہور خودکش حملہ، تحقیقات شروع14 August, 2008 | پاکستان واہ حملے ردِ عمل ہیں: مولوی عمر21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||