باجوڑ:طالبان کمانڈر کے گھر پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سے پہلے باجوڑ ایجنسی میں ایک مقامی طالبان کمانڈر کی رہائش گاہ پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی تھی جس میں چار شدت پسند مارے گئے ۔ باجوڑ ہی میں قبائلی جرگے کے ناکامی کے بعد پولیٹکل انتظامیہ نے تینتیس افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مقام خار سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل نوگئی کے علاقہ چارمنگ میں ایک مقامی طالبان کمانڈر علی الرحمن کے رہائش گاہ پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔لیکن انہوں نے علی الرحمن کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے رات بھر تحصیل ماموند کے علاقے بدان، تحصیل نواگئی کے علاقوں سرلڑے، چارمنگ اور دربندہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے جس سے شدت پسندوں کے کئی مراکز تباہ ہوگئے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی کے اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ لوئی ماموند کے قبائلی سے جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور وہ طالبان کے خلاف لشکر بنانے میں ناکام ہے۔ان کے مطابق لشکر کی ناکامی کے بعد پولیٹکل انتظامیہ نے لوئی ماموند کے قبائل کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے اور اجتماعی ذمہ داری کے تحت لوئی ماموند سے تعلق رکھنے والے تینتیس افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں پانچ طالبان اور سات افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں جرگے پر طالبان حملہ، پانچ ہلاک15 March, 2008 | پاکستان چار شدت پسند، دو شہری ہلاک14 October, 2008 | پاکستان کوہاٹ ٹنل کھول دی گئی 28 September, 2008 | پاکستان قبائلی لشکر: طالبان گھر نذر آتش05 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||