باجوڑ جرگہ، ہلاک شدگان کی تعداد25 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایک قبائلی جرگے پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹ پر ہونے والے کار بم حملے کے بعد حکام نے جمعہ کو پورے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں ایک اعلٰی حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد صورتحال کے واضح ہونے کے ساتھ ہی مرنے والوں کی حتمی تعداد کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ان کے بقول حملے میں پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں میں آٹھ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے بعد فارغ کردیا گیا ہے۔ان کے مطابق حکومت بہت جلد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک جرگہ منعقد کرے گی۔ مبینہ خودکش حملے میں زندہ بچ جانے والے سالار زئی قبیلے کے ایک سرکردہ رہنما ملک کمال خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پچیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سب سے بڑا جنازہ طالبان مخالف لشکر کے سربراہ میجر ریٹائرڈ فضل کریم کا تھا جس میں چار ہزار سے زائد قبائلیوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرنے والوں میں آٹھ دیگر مشران ملک وزیر، ملک جبار، ملک عبدارحمن، ملک شمس الرحمن، ملک شاہ سوار، ملک غلام سرور، ملک خان پیچئی اور ملک سخی جان شامل ہیں۔ طالبان کے خلاف قبائلی لشکر میں پیش پیش رہنے والے ملک کمال خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حملے کے باوجود ان کا قبیلہ طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول قبائلی روایات کے مطابق تین دن تک فاتحہ خوانی ہونے کے بعد سالار زئی قبیلہ کا ایک گرینڈ جرگہ بلایا جائے گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
جرگہ کی سکیورٹی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ملک کمال خان کا کہنا تھا کہ بار بار مطالبے کے باوجود حکومت نےجرگہ کو سکیورٹی فراہم نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار انہیں مہیا کردیں تاکہ قبائل ان کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف کارروائیاں کریں مگر حکومت نے اس مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جمعرات کو سکیورٹی فورسز پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد حکام نے پورے علاقے میں غیر معینہ مدت تک کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ سوات ہی میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب کو بعض نامعلوم افراد نے صدر مقام مینگورہ سے تقریباً دو کلومیٹر دور قمبر کے علاقے میں لڑکیوں کے ایک سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ سکول کے قریب واقع صحت کے بنیادی مرکز کی عمارت کو بھی نذرِ آتش کیاگیا ہے۔ سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کل کے مبینہ خودکش حملے اور دیگر واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کے بقول یہ حملے طالبان نے گزشتہ روز سیر سنئی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ:طالبان کمانڈر کے گھر پر حملہ06 November, 2008 | پاکستان ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا06 November, 2008 | پاکستان جرگے پر طالبان حملہ، پانچ ہلاک15 March, 2008 | پاکستان چار شدت پسند، دو شہری ہلاک14 October, 2008 | پاکستان کوہاٹ ٹنل کھول دی گئی 28 September, 2008 | پاکستان قبائلی لشکر: طالبان گھر نذر آتش05 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||