امریکی حملے، ’ڈٹ جاؤ یا بیان بند کرو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت یا تو قبائلی علاقوں میں حملوں کے متعلق امریکہ کے سامنے ڈٹ جائے یا پھر ان حملوں کے بارے میں بیانات دینا بند کردے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور کابینہ کے دوسرے وزراء نے متعدد بار بیان دیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے حملے اب مذید برداشت نہیں کیے جائیں گے لیکن اس کے باوجود امریکی حملے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام، کیوبا اور لبنان جیسے ممالک امریکہ کا سامنا نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود وہ امریکہ کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ امریکہ نے لبنان سے کہا تھا کہ وہ حزب اللہ کو ملک سے نکال دے تو انہوں نے کہا تھا کہ اس کا فیصلہ لبنانی عوام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے جنرل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے سیاچین کا دورہ کیا لیکن پاکستانی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ قائد حز ب اختلاف نے کہا کہ امریکہ میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی نے کسی بھی انتخابی جلسے میں صدر بش کو نہیں بُلایا کیونکہ وہ امریکہ میں سب سے زیادہ ناپسند کیے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران یہ بیان دے دیا کہ بُش کی پالیسیوں سے دنیا محفوظ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صدر بُش، افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو خوش کرنے کی پالییسی پر عمل پیرا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ایک طرف حکومت معاشی بحران کا رونا روتی ہے اور دوسری طرف حکومت کے شاہانہ خرچ اُسی طرح جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وزراء، وزراء مملکت، مشیروں، معاون خصوصی اور گشتی سفیروں کی تعداد 87 کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان وزراء کے لیے ایسے ایسے محکمے بھی بنائے جا رہے ہیں جن کو ایک جوائنٹ سیکریٹری لیول کا آدمی بھی چلا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کو مشیروں کے ساتھ چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری عمرے پر دو سو سے زائد افراد کو لے گئے اور پھر یہ بیان آیا کہ انہوں نے ان افراد کو اپنے ذاتی خرچ سے عمرہ کروایا ہے۔ چوہدری نثار علی ان نے کہا کہ عمرے پر ایک شخص کا کم سے کم خرچہ پینتالیس ہزار روپے ہے اور اس طرح دو سو سے زائد افراد پر خرچہ بہت زیادہ آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے جو ٹیکس جمع کروایا ہے اُس حوالے سے اُن کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ دو سو افراد کو ذاتی خرچ پر عمرے پر لے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر آصف علی زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے عہدے سے فوری مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسٹر زرداری ایوان صدر کو سیاست سے علیحدہ کردیں، میثاق جمہوریت کا احترام کیا جائے، ملک میں 1973 کا آئین بحال کیا جائے اور اعلٰی عدالتوں کے ججوں کو دو نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔ دریں اثناء قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کی خرابی کی ذمہ داری صدر، وزیر اعظم اور فوج کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان میزائل حملہ، گیارہ ہلاک07 November, 2008 | پاکستان امریکی حملے میں’پانچ ہلاک‘30 September, 2008 | پاکستان ’امید ہے اب حملے نہیں ہوں گے‘16 September, 2008 | پاکستان ایک اور امریکی حملہ، بارہ ہلاک12 September, 2008 | پاکستان ’امریکی حملہ شرمناک ہے‘04 September, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی حملہ: گیٹس کا اظہارِ افسوس02 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||