’اب حملے برداشت نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت اب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملے برداشت نہیں کرے گی۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی رکن ماروی میمن کی جانب سے حملوں پر نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوموار کو پاکستان میں امریکی سفیر ڈبلیو این پیٹرسن اور انٹیلیجینس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اُن سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور ان پر واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ان حملوں پر پاکستانی عوام کو شدید خدشات ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ چونکہ صدر بش کی حکومت جا رہی ہے اور نئی حکومت امریکہ کی نئی حکومت سے مذاکرات کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے امریکی سفیر پر واضح کیا تھا کہ حکومت پاکستان کی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صدر زرداری امریکہ میں ان حملوں کے بارے میں تحفظات امریکی صدر بش تک پہنچائیں گے۔ واضح رہے کہ صدر زرداری منگل کے روز نیو یارک میں بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دوران وہ متعدد ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے پشاور سے رکن قومی اسمبلی نور عالم نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُن کو بتائے بغیر اُن کے علاقے میں آپریشن شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے مکین اپنے گھروں میں بند ہوکر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا کہ وہ یہ معاملہ وزیر اعلٰی سرحد کے سامنے اُٹھائیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک مہینے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہوا تھا جس میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے سے پانچ دن قبل جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادیوں کے حملے میں بیس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ یکم ستمبر کے بعد سے اس طرح کے سترہ حملے ہوئے ہیں جن میں امریکہ کے مطابق القاعدہ کے رہنماؤں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مقامی قبائلی رہنماؤں کا کہنا ان حملوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر حملے وزیرستان میں ہوئے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حملے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں فائدے کی بجائے نقصان کا باعثث بن رہے ہیں۔ امریکی فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کہہ چکے ہیں وہ ان میزائیل حملوں سے متعلق پاکستان کی تنقید پر غور کریں گے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا ہے کہ امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو طبی بنیادوں پر رہا کرے اور ان کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا امریکی سفیر نے یقین دہانی کرائی کہ امریکی حکام اس تجویز پر غور کرے گی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کے شہر ٹیکساس میں قید ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ پر امریکی فوجیوں، اور امریکی حکومتی اہلکاروں اور افسروں کو قتل کرنےکی کوشش، ان کے خلاف قتل کی نیت سےہتھیار اٹھانے سیمت چھ مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام ہے۔ بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امدادی اشیاء وافر مقدار میں پہنچ چکی ہیں اور آئندہ دو تین ماہ کے دروان ان علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بلوچستان میں چھ سوگھر ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیے جائیں گے جبکہ باقی گھر موسم کی بہتری کے بعد تعمیر کیے جائیں گے۔ | اسی بارے میں وزیرستان میزائل حملہ، گیارہ ہلاک07 November, 2008 | پاکستان حملے پارلیمان کی توہین: ربانی24 October, 2008 | پاکستان تازہ حملہ:’امریکہ نے مطلع نہیں کیا‘18 September, 2008 | پاکستان ایک اور امریکی حملہ، بارہ ہلاک12 September, 2008 | پاکستان وزیرستان میزائل حملہ، 12 ہلاک13 August, 2008 | پاکستان گیلانی کادورہ، فائدہ کم نقصان زیادہ 01 August, 2008 | پاکستان باجوڑ حملہ: صدر بش سے بات18 May, 2008 | پاکستان قبائلی علاقوں میں میزائل حملوں میں اضافہ15 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||