BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا‘

جنرل پیٹریئس اور احمد مختار
جنرل پیٹریئس پاکستانی وزیر دفاع احمد مختار کے ساتھ

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر امریکہ پر واضح کیا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری میزائل حملوں سے خطے میں امریکہ مخالف جذبات بھڑکیں گے، لہذا امریکہ کو پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔

یہ وضاحت پاکستانی وزیر دفاع احمد مختار نے امریکی فوج کی مرکزی کمان کے نئے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس سے ملاقات میں کی۔ ملاقات میں امریکہ کے جنوبی ایشیا کے لیے نائب معاون سیکرٹری رچرڈ باؤچر اور پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن بھی موجود تھیں۔

گزشتہ رات جنوبی ایشیا کے لیے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے ہمراہ اسلام

ملاقات میں پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
آباد آمد کے بعد جنرل پیٹریئس نے ملاقاتوں کا سلسلہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے کیا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری مختصر بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ جنرل ہیڈکواٹرز راولپنڈی میں ہونے والی’اس ملاقات میں پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

تاہم وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں احمد مختار سے ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ امریکہ کی طرف سے جاری حملوں سے لوگوں کے غم وغصے میں اضافہ ہوگا۔

جنرل پیٹریئس نے دیگر اعلی امریکی فوجی اہلکاروں کے علاوہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی تاہم سرکاری بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دونوں کے درمیان کن امور پر بات ہوئی یا کیا فیصلے ہوئے۔ ملاقات میں پاکستان کی جانب سے فوجی سربراہ جنرل کیانی اور قومی سلامتی امور کے مشیر محمود علی درانی بھی موجود تھے۔

احمد مختار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے کیونکہ پرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے اہم ہے۔‘ انہوں نے امریکی حکام کو قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

بیان کے مطابق وزیر دفاع نے امریکی اہلکاروں کو پاکستان کی سکیورٹی ضروریات سے بھی آگاہ کیا تاکہ وہ بہتر انداز میں دہشت گردی عناصر کا مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

 پیٹریئس اس دورے میں پاکستانی حکام سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے پر بھی مشاورت کر رہے ہیں۔
جنرل ڈیوڈ پیٹریئس یہ دورہ امریکی فوج کی مرکزی کمان سنبھالنے کے فورا بعد کر رہے ہیں۔ ان کے اس پہلے غیرملکی دورہ سے واضح ہوتا ہے وہ پاکستان کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ پیٹریئس اس دورے میں پاکستانی حکام سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے پر بھی مشاورت کر رہے ہیں۔

دورہ ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان میں امریکی حملوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ امریکی گزشتہ اگست سے اب تک ایسے سترہ حملے کر چکے ہیں، جن میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

ڈما ڈولاجیت کی کلید
موجودہ آپریشن: باجوڑ میں کامیابی اہم کیوں؟
سپلائی لائن کاٹ دی
لوئی سم پر قبضہ ’شہ رگ پر کاری ضرب‘
کمانڈر سے انٹرویو
جلال آباد میں امریکی کمانڈر سے گفتگو
میزائل حملہ(فائل فوٹو)’سرحد پار‘سےحملے
پاکستان میں امریکی حملوں کی ٹائم لائن
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد