BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 03:26 GMT 08:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل پیٹریئس کی نئی حکمت عملی
عراق میں ان کی حکمت عملی بڑی حد کامیاب رہی
امریکہ میں صدراتی انتخابات سے صرف دو دن قبل اور امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد جنرل ڈیویڈ پیٹریئس کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے ہمراہ پاکستان کے دورے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

عراق میں گزشتہ کئی برس سے جاری تشدد پر خاطر خواہ حد تک قابو پانے میں کامیابی حاصل کرنے بعد جنرل ڈیویڈ پیٹریئس نے گزشتہ جمعہ کو امریکی سینٹرل کمانڈ کا عہدہ سنبھالا ہے۔ ان کی نئی ذمہ داریوں میں براعظم ایشیا کا ایک بڑا حصہ آتا ہے جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

جنرل ڈیویڈ پیٹریئس کا یہ دورہ پاکستان کے شمالی مغربی قبائلی علاقوں پر امریکی فوج کی طرف سے مسلسل میزائل حملوں اور اس کے رد عمل میں پاکستان کی جمہوری حکومت کی طرف سے شدید احتجاج سے بظاہر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کو دور کرنے یا خطے میں نئی فوجی حمکت عملی پر عمدرآمد کرنے لیے ہے۔

ان سوالات سے قطع نظر مبصرین کے مطابق جنرل پیٹریئس کے اس اچانک دورے نے دو چیزوں کو واضح کر دیا ہے۔

امریکہ میں ڈیلاویئر یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر مقتدر نے بی بی سی کے پروگرام جہاں نما کو انٹرویو میں کہا کہ یہ دورہ ایک طرف تو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تو دوسری طرف اس سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ جنرل پیٹریئس خطے میں شدت پسندی کو ختم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

ڈاکٹر مقتدر کے مطابق پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام سے پاکستان اور امریکہ کا رشتہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب پاکستان پر اتنا بھروسہ نہیں کرتا جتنا سابق صدر جنرل مشرف کے دورے حکومت میں کرتا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو بھی امریکی ڈرون طیاروں سے قبائلی علاقوں میں دو میزائل داغے گئے جن میں بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ ایک طرف تو پاکستان کی حکومت امریکہ سے امداد حاصل کرنا چاہتی ہے اور امریکہ کو استعمال کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف انہیں خدشہ ہے کہ کہیں وہ طالبان سے مفاہمت نہ کر لے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات سے بہت گھبراتا ہے۔

امریکہ کو ان کے مطابق اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے پاکستان کی جمہوری حکومت ایک حد تک ہی امریکہ کا ساتھ دے سکتی ہے۔

ڈاکٹر مقتدر نے کہا کہ امریکہ کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ پاکستان میں شدت پسند کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہو گیا ہے اور امریکہ جانتا ہے کہ اگر پاکستان امریکی فوجی حکمت عملی پر چلتا رہتا تو پاکستان میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو سکتی تھی۔

اسی حقیقت کے پیش نظر اب امریکہ نے ذہنی طور پر بات کو قبول کر لیا ہے کہ ہر وقت پاکستان کی حکومت کے لیے امریکہ کا ساتھ دینا ممکن نہیں رہا۔

ڈاکٹر مقتد نے کہا کہ پاکستان کے اندر امریکی حملے جاری رہیں گے اور جنرل پیٹرئیس پاکستان کی حکومت کو یہ باوور کرائیں گے کہ امریکہ پاکستان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔

عراق میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے ایک سوال پر ڈاکٹر مقتدر نے کہا کہ جنرل پیٹریئس نے شورش سے نبٹنے کے بارے میں کتاب لکھی تھی۔

اس کتاب میں انہوں نے لکھا تھا کہ دشمن کو کس طرح اپنا لیا جائے۔ اسی حکمت عملی کے تحت عراق میں انہوں نےالقاعدہ کے عراق عناصر کو خرید لیا تھا۔ عراقی قبائل کو بیس بیس تیس تیس ملین ڈالر ماہانہ ادا کیئے اور انہیں خرید لیا۔ اور اس طرح سے انہوں نے القاعدہ کے غیر ملکی جنگجوؤں کو تناہ کر دیا۔

ڈاکٹر مقتدر نے کہاکہ یہی حکمت عملی وہ پاکستان اور افغانستان میں اپنانا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے تحت جو لوگ القاعدہ سےصرف تعاون کر رہے اور ان کے ساتھ عملی طور پر شریک نہیں ہیں انہیں القاعدہ سے علیحدہ کرنا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں طالبان اور مقامی قبائل کے لیے مختلف ترغیبات کا اعلان کیا جائے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ حکمت عملی پاکستان اور افغانستان میں کس حد تک کارگر ثابت ہو گئی کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بہت کمزور ہے اور لوگ کی آمدورفت روکنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل پیٹرئیس کا جنرل کیانی سے ملنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ اندازہ لگانا چاہ رہے ہیں کہ پاکستان کے پاس کسی حد تک خفیہ معلومات ہیں جن سے القاعدہ کے ساتھ تعاون کرنے والے عناصر کی نشاندھی کی جا سکے اور یہ دیکھا جا سکے کہ کن لوگوں کو پیسے یا دوسری ترغیبات دے کر القاعدہ سے علیحدہ کیا جا سکتا اور کن کو صرف طاقت کے ذریعے ہی ختم کیا جانا ضروری ہے۔

پہلے رِٹ پھرمذاکرات
’قومی اتفاق اور پھر عملی اقدام ضروری ہیں‘
آگ پر چلنے کی رسمآگ سے حلف
’وڈیرےاس دور میں کون سا انصاف کر رہے ہیں‘
لشکرِلشکروں کے بعد کیا؟
کیا لشکر بنانے کی پالیسی کارگر ہو گی؟
طالبان مخالف عوام
قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
فوج’پر امید نہ ہوں‘
’یہ جنگ مزید چند برس چلے گی‘
ملک عبدالرحمن قبائلی جرگے پر حملہ
’ذرا بھی شبہ ہوتا تو تلاشی کا انتظام کر لیتے‘
 لشکرخطرے کی گھنٹی
طالبان مخالف لشکر کو درپیش مشکلات
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد