’مذاکرات تبھی کامیاب ہوں گے جب رٹ ہوگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) احسان اللہ خان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ قائم کرنا مقامی انتظامیہ کے بس کی بات نہیں رہی اور اس کے لیے اب ایک قومی لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔ یہ بات جنرل (ر) احسان نے حال ہی میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ جنرل ریٹائرڈ احسان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی علاقوں میں موجودہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فریقین کے مابین مذاکرات ناگزیر ہیں لیکن کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف تبھی کامیاب ہوں گے جب قبائلی علاقوں پر حکومتی رٹ قائم ہو گی‘۔ جنرل ریٹائرڈ احسان نے کہا کہ ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ نہیں تھی جس کی وجہ سے حکومت انتہا پسندوں کے ساتھ ایک مضبوط پوزیشن سے بات نہیں کر سکی۔ لہٰذا اب مذاکرات کے عمل کو مؤثر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پہلے قبائلی علاقوں پر اپنی رٹ قائم کرے اور پھر مذاکرات کا عمل شروع کرے۔ جنرلریٹائرڈ احسان نے گیارہ ستمبر کو امریکہ پر ہونے والے حملوں کے فوراً بعد آئی ایس آئی کا چارج سنبھالا تھا اور یوں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی بنانے میں وہ ایک کلیدی کردار تھے۔ سن دو ہزار چار میں آئی ایس آئی چھوڑنے کے بعد وہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے اور یہاں بھی دہشتگردی سے متعلق پالیسی سازی میں ان کا کردار اہم رہا۔ پچھلے سال فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد سے وہ مغربی ممالک میں مختلف تھنک ٹینکس کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
جنرل ریٹائرڈ احسان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی کا محور افغانستان کی صورتحال ہے۔ ’اس لیے پاکستان پر لازم ہے کہ وہ امریکہ پر یہ باور کرے کہ اگر امریکہ افغانستان میں اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کو غیر مستحکم کرے گا تو یہ نہ افغانستان کے مفاد میں ہو گا اور نہ ہی بین الاقوامی برادری کے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں شک نہیں کہ پاکستان پر انتہا پسندوں سے مذاکرات کے خلاف امریکہ کی جانب سے شدید دباؤ ہے لیکن پاکستان اس دباؤ کے باوجود اپنی پالیسی اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دے سکتا ہے۔ ’لیکن ایسا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ انتہا پسند پاکستانی سرزمین سے سرحد پار کر کے افغانستان میں حملے نہیں کریں گے۔ ایسا کیے بغیر اس علاقے میں ملوث علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے بیچ کوئی معاہدہ ممکن نہیں‘۔ جنرل ریٹائرڈ احسان کی رائے میں یہ ضروری ہے پاکستان کی سر زمین سے سرحد پار کارروائیاں روکنے کے لیے جو بھی حکمت عملی بنائی جائے وہ بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل کے ذریعے بنے جس میں ضرورت کے مطابق فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ جب جنرل ریٹائرڈ احسان سے یہ پوچھا گیا کہ ایسی حکمت عملی کے لیے پاکستان کی سیاسی اور انٹیلیجنس انتظامیہ کے بیچ جس قسم کی ہم آہنگی ضروری ہے وہ فی الوقت نظر نہیں آتی اور کیا اس ہم آہنگی کے بغیر کوئی متفقہ لائحہ عمل بن سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے ایسا کوئی کام نہیں کرتے جو باقی کی دنیا میں نہ ہو رہا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹیلیجنس اداروں پر تنقید بنیادی طور پر ان کے سیاسی کردار کی وجہ سے ہوتی ہے اور ’اب اگر حکومت کہہ چکی ہے کہ ان کے سیاسی کردار کا خاتمہ کر دیا جائے گا تو مستقبل میں ان کی سیاسی حکومت کے ساتھ کشیدگی کی کوئی وجہ نہیں رہتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو اس بات کا مکمل یقین ہے کہ ماضی میں آئی ایس آئی نے وہی کیا جو اس کو حکومت نے کہا۔ ان کے مطابق آئی ایس آئی مکمل طور پر حکومت کے تابع ہوتا ہے۔ یہ ادارہ وہی کرتا ہے جو حکومت اسے کہتی ہے اور اس کے علاوہ اوپر نیچے یا دائیں بائیں کچھ نہیں کرتا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بہت جلد آئی ایس آئی اور نئی سول حکومت کے بیچ باہمی اعتماد کا رشتہ قائم ہو جائے گا کیونکہ اس وقت پاکستان میں طاقت کے تمام مراکز اس امر پر متفق ہیں کہ ملک میں سیاسی حکومت کو پروان چڑھنا چاہئیے۔ پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کی قابلیت کے بارے میں امریکی شک و شبہات کے بارے میں جنرل احسان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جنگجؤں کی نقل و حرکت کے بارے میں پاکستان سے بروقت اطلاعات نہیں ملتیں۔ اس سال کے شروع میں وزیرستان میں منعقد ہونے والی قبائلی جنگجو بیت اللہ محسود کی پریس کانفرنس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ امریکہ کو اس کے بارے میں علم تھا جس کے باوجود امریکہ نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔
جنرل احسان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی ذیادہ تر دلچسپی ان اہداف کو نشانہ بنانے میں ہوتی ہے جو اس کے خیال میں افغانستان میں کاروائیوں میں ملوث ہیں نہ کہ ان کو جن کی کارروائیاں پاکستان کے اندر محدود ہیں۔ ان کے مطابق اس امریکی رویے سے دونوں ملکوں کے جاسوس اداروں کے بیچ تعاون پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں کئی دفعہ امریکہ کی توجہ پاکستان کی انٹیلیجنس قابلیت میں موجود تکنیکی کمزوریوں کی طرف دلائی گئی لیکن ایک دفعہ بھی پاکستان کو امریکہ سے کوئی منطقی یا تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ اب اگر ان دونوں ملکوں کے جاسوس اداروں نے مل کر مؤثر طور پر کام کرنا ہے تو امریکہ کو پاکستان کی تمام تکنیکی کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی مدد کرنا ہو گی۔ جنرل ریٹائرڈ احسان کے مطابق پاکستان قبائلی علاقوں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ سے متعلق اپنے موجودہ مسائل پر با آسانی قابو پا سکتا ہے اگر وہ ان سے نمٹنے کی حکمت عملی پر ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد اسے عملی جامہ پہنا سکے۔ ’لیکن اگر ہم اسی بحث میں الجھے رہے کہ یہ ہماری جنگ ہے بھی یا نہیں تو پھر ہم ان مسائل سے شاید نہ نمٹ سکیں۔ اور اگر ہم ان مسائل سے نہ نمٹ سکے تو پھر ہم ایک انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہونگے‘۔ |
اسی بارے میں ’القاعدہ دوبارہ منظم ہو رہی ہے‘04 July, 2008 | پاکستان وزیرستان میں طالبان یا غیر ملکی؟05 August, 2008 | پاکستان القاعدہ کے اہم رہنما ہلاک31 January, 2008 | پاکستان کراچی کا ڈاکٹر وانا میں ہلاک23 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||