’آگ کا انصاف غیر قانونی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے جعفرآباد میں لوگوں کو انگاروں پر سے گزار کر فیصلہ کرنے کی مقامی سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مخالفت کی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے ایسے واقعات پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی این جی او ’ساحل‘ سے وابستہ ایڈووکیٹ راحب بلیدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آگ کے انصاف کا نظام غیرقانونی ہے اور جو افراد یا وڈیرے ان واقعات میں ملوث ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ راحب بلیدی کا کہنا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرح موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر کو بھی ایسے واقعات پر از خود نوٹس لینا چاہیئے۔ان کا کہنا تھا کہ قانون کی کسی کتاب میں آگ کے انصاف کا ذکر تک نہیں تو پھر وڈیرے اس دور میں کون سا انصاف کر رہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مقامی رہنماء کامریڈ حق نواز کا کہنا ہے کہ جاگیرداروں نے اپنا تسلط قائم رکھنے کےلیے متبادل نظام عدل قائم کر رکھا ہے جس کی کوئی بھی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جعفرآباد اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں چند برس قبل سیاہ کاری یا کاروکاری پر بات کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا مگر مقامی علاقوں کے عام لوگ آج ان سرداروں کے نظام کے خلاف بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں قبائلی انصاف کے مطابق انگاروں سے بھرے ایک گڑھے کو منصف بنایا جاتا ہے جس کو بلوچی زبان میں آس آف یعنی آگ اور پانی یا چربیلی کا نام دیا جاتا ہے۔ چربیلی کی رسم بگٹی قبائل میں زیادہ مقبول ہے۔
چربیلی کے فیصلے کرنے والے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی رہنماء مرید بگٹی کا کہنا تھا کہ چوری، کارو کاری یا قتل کے فیصلے کرنے کےلیے چربیلی کی جاتی ہے۔ جس کےتحت بارہ فٹ لمبا، اڑھائی فوٹ چوڑا اور دو فٹ گہرا گھڑا کھودا جاتا ہے۔ جس کو لکڑیوں سے بھر کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ آگ کے شعلے ختم ہونے کےبعد جب انگارے تازہ ہوتے ہیں تو ایک آدمی قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے انگاروں کی کھائی کو قسم دیتا ہے کہ جو شخص مجرم ہو اس کو پکڑنا اور جو بیگناہ ہو اس کو معاف کرنا۔ انصاف غلط کیا تو قیامت کے دن تم (آگ) ذمہ دار ہو گی۔ اس قسم کا حلف دینے کے بعد ملزم کو انگاروں پر ننگے پاؤں چلنے کے لیے کہا جاتا ہے۔انگاروں سے بھرے گڑھے کی دوسری طرف ان کے رشتہ دار تازہ ذبح کیے ہوئے بکرے کے خون سے بھرا برتن لیے کھڑے ہوتے ہیں جس میں ملزم کے پاؤں چند منٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ بعد میں جرگے کےامین کو ملزم کے پاؤں دیکھ کر اس کی بیگناہی یا گناہگار ہونے کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔اگر پاؤں میں چھالے ہونگے تو وہ شخص گناہگار اور سزا کا حقدار ہوگا۔ بلوچی میں اس قبائلی نظام کو آگ اور پانی کا انصاف کہتے ہیں۔ بلوچ قوم پرست رہنماء اکبر بگٹی چربیلی کے فیصلے کرنے میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ان کے مقرر کردہ بنگل بگٹی کو آگ پر قرآن پڑھنے کا اختیار ہوتا تھا مگر ان کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے حاجی عمر خان بگٹی آج کل آگ کو حلف دے رہے ہیں۔ آگ اور پانی کے انصاف میں دونوں فریقین سے پچیس پچیس ہزار روپیہ طلب کیا جاتا ہے۔ جو آگ جلانے کے لیے لکڑیوں، بکری اور آگ پر قرآن پڑھنے والوں کے اخراجات میں تقسیم ہوتا ہے۔ مگر مرید بگٹی کا کہنا ہے کہ وہ چربیلی کے فیصلے کے پچیس ہزار تو دور کی بات پچیس روپے بھی طلب نہیں کرتے۔ بلوچستان کے بعض پڑھے لکھے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی نطام عدل میں دیر کی وجہ سے عام لوگ آگ اور پانی یا چربیلی کے انصاف پر اعتبار کرتے ہیں۔ جو انہیں فوری انصاف کی ضمانت دے رہا ہے۔ جعفرآباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے رہنماء رستم مری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عام لوگوں کو چربیلی کے ذریعے سستا اور فوری انصاف مل جاتا ہے۔ عدالتوں کے چکر اور وکیلوں کی فیس سے انہیں نجات مل جاتی ہے۔ رستم مری کے مطابق بولان میں ایک ندی کے پانی کے ذریعے بھی انصاف کیا جاتا ہے۔ جہاں ملزم کو پانی کے اندر چند منٹ پکڑ کر رکھا جاتا ہے۔اگر وہ چور ہوگا تو فوراً باہر آجائیگا۔اور اگر وہ بے قصور ہوگا تو وہ پانی کے اندر پرسکون حالت میں بیٹھ کر مقرر وقت پورا کرے گا۔ رستم مری کےمطابق بلوچوں کی رسومات اور روایات پر عام بلوچوں کو یقین ہے اس لیے قبائلی انصاف کی یہ رسومات تاحال زندہ ہیں۔ یاد رہے کہ چربیلی کی رسم بلوچستان سے سفر کرکے صوبہ سندھ کی حدود میں داخل ہوچکی ہے ۔بلوچستان سے ملحقہ ضلع جیکب آباد میں اس رسم کی بڑی تقاریب سابق صوبائی وزیر میر منظور پہنور کے گاؤں میں منعقد کی جاتی ہیں۔جبکہ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی کے خاندان کے افراد بھی چربیلی کے فیصلےکرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں جب چربیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے تب آگ پر قرآن کی تلاوت کےلیے ڈیرہ بگٹی سے بنگل بگٹی یا ان کے بیٹے کو طلب کیا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں قبائلی انصاف:پاؤں میں چھالے جرم ثابت20 October, 2008 | پاکستان انگاروں پر چل کر معصومیت ثابت20 October, 2008 | پاکستان تین ماہ، خواتین پر تشدد، 220 واقعات20 October, 2008 | پاکستان ’قبائلی خواتین جنگ سے زیادہ متاثر‘17 October, 2008 | پاکستان ’بلوچستان: خواتین کا قتل جاری‘04 October, 2008 | پاکستان زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان مقتول خواتین کی تفتیش اور احتجاج18 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||