قبائلی انصاف:پاؤں میں چھالے جرم ثابت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں بگٹی قبیلے کے جرگے نے کارو قرار دیے گئے گل محمد بگٹی نامی شخص کو انگاروں پر چلا کر مجرم قرار دیا ہے اور اب بقول جرگے کے معتبرین کے جرمانہ عائدکیا جائے گا جو اڑھائی لاکھ روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ جرگے کے سربراہ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ضلع جعفرآباد کے صدر مرید بگٹی نے بتایا ہے کہ انھوں نے پیر کی صبح اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کے انگاروں پر چلنے کے چوبیس گھنٹے بعد ملزم کے پیروں کا معائنہ کیا گیا ہے اور ملزم کے پیروں پر چھالے پڑ ے تھے جس سے ثابت ہوا ہے کہ گل محمد بگٹی کے چاکر بگٹی کی بیوی کے ساتھ تعلقات تھے۔ ملزم گل محمد بگٹی کو گزشتہ روز جعفرآباد میں انگاروں پر سے گزارا گیا تھا اور آج اس کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔
مرید بگٹی کے مطابق اب مجرم قرار دیے گئے گل محمد بگٹی ’میڑھ‘ لے کر چاکر بگٹی کے پاس جائیں گے اور پھر معتبرین کی موجودگی میں اور براہمدغ بگٹی کی اجازت سے مجرمان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا جو اڑھائی لاکھ روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چاکر بگٹی کو یہ ’میڑھ‘ قبول کرنی پڑے گی۔
انھوں نے کہا کہ اگر گل محمد بگٹی مجرم ثابت نہ ہوتا تو خاتون جس کا نام نہیں بتایا گیا چاکر کے ہی نکاح میں رہتی اور دونوں فریقین کے گلے شکوے ختم کرا دیے جاتے۔ مرید بگٹی سے جب پوچھا کہ اس طرح چھالے تو کسی کو بھی آگ پر چلایا جائے تو پڑ سکتے ہیں تو مرید بگٹی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے جبکہ قرآن کی موجودگی میں فیصلے کے لیے کسی کو آگ پر چلایا جاتا ہے تو اس کا فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے انھوں نے دو علیحدہ علیحدہ مقامات پر اس طرح کے فیصلے کیے ہیں جن میں ملزمان کے پیروں پر کوئی چھالے نہیں پڑے اور انھیں بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ان سے جب پوچھا کہ موجودہ دور میں بھی اس طرح کے فیصلے کون تسلیم کرتا ہے تو انھوں نے کہا کہ بلوچ قبائلیوں کا اس امتحان اور طریقے پر مکمل اعتماد اور یقین ہے اور یہ فیصلے ان قبائلیوں کے اعتماد کی روشنی میں کیے جاتے ہیں اس لیے کبھی اس میں غلطی نہیں ہوئی ہے۔ مرید بگٹی نے کہا کہ صرف چوبیس گھنٹے میں اتنے بڑے بڑے واقعات کے فیصلے سنا دیے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان:دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد01 September, 2008 | پاکستان عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی09 September, 2008 | پاکستان ’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘13 September, 2008 | پاکستان ’صرف دو عورتیں قتل ہوئی تھیں‘18 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘22 September, 2008 | پاکستان زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان چھ ماہ میں دو سو پچیس عورتیں قتل26 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||