بلوچستان:دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر نصیرآباد میں سیاہ کاری کے الزام میں ’زندہ دفن‘ کی جانے والی دو لڑکیوں کی لاشیں قبرکشائی کے بعد نکال لی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کے جسم پر گولیوں کے نشان ہیں اور انھیں کفن کے بغیر دفنایا گیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیر آباد شبیر احمد شیخ نے بتایا ہے کہ قبریں لڑکیوں کے آبائی گاؤں بابا کوٹ سے دس کلومیٹر دور تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں، پولیس اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کی گئی ہے جہاں سے دو لڑکیوں کی لاشیں ملی ہیں اور ان لاشوں پر گولیوں کے نشان تھے۔ شبیر احمد شیخ نے بتایا ہے کہ لڑکیوں کو بغیر کفن کے سادہ کپڑوں میں دفن کیا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لڑکیوں کو سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات میں لاش کو کفن میں دفن نہیں کیا جاتا ہے۔ مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ بات سامنے آئی تھی کہ پانچ خواتین کو زندہ جلا کر دفن کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے نے بتایا کہ یہ پانچ خواتین نہیں تھیں بلکہ تین خواتین تھیں جنھیں قتل کیا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں کل یعنی سوموار کے روز اس واقعہ کی مذمت کی گئی تھی لیکن بلوچستان اسمبلی میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ مخلوط حکومت میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماسینیٹر اسراراللہ زہری نے قتل کے اس واقعہ کو بلوچ روایات قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں زندہ دفنانے پر کمیشن، گرفتاریاں 01 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان ڈونگا بونگا: غیرت کے نام پر قتل30 January, 2007 | پاکستان ’قتل سازش کا نتیجہ، غیرت نہیں‘31 January, 2007 | پاکستان لاڑکانہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل10 April, 2007 | پاکستان نواب شاہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل03 May, 2007 | پاکستان ’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘13 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||