BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 August, 2008, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘

سینیٹر اسرار اللہ زہری
فائل فوٹو: اسرار اللہ زہری
سینیٹر اسرار اللہ زہری نے بلوچستان میں پانچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کے واقعے کو قبائلی روایات کی پاسداری قرار دیا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے سینیٹر اسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ ’بلوچ قبیلے نے قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ عورتوں کو زندہ دفن کیا ہے اس لیے اس معاملے کو نہ اُچھالا جائے۔‘

جمعہ کے روز سینیٹ کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے قبائل کی اپنی اپنی روایات ہوتی ہیں جن کی وہ پاسداری کرتے ہیں۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سینیٹر یاسمین شاہ نے کہا کہ پانچ عورتوں کو زندہ دفن کرنے کے واقعہ کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مختلف اخبارات میں چھپنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کا بھائی بھی ملوث ہے اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ ان عورتوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھیں جس کا انہیں اسلام نے بھی حق دیا ہے۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی نے کہا کہ ’اس ایوان میں بات کرنا بہت آسان ہے آپ اُس علاقے میں جائیں اور وہاں کے حالات دیکھ کر پھر ایوان میں بات کریں۔‘

فائل فوٹو: سینیٹر یاسمین شاہ
جان محمد جمالی نے کہا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ ان کے علاقے کے قریب میں ہوا ہے اس لیے جب تک اس کی رپورٹ نہ آجائے اس وقت تک وہ بھی اس پر بات نہیں کر سکتے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کامل علی آغا نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون موجود ہے اور ان کی موجودگی میں اگر اس طرح کے واقعات ہوں گے تو پھر دنیا میں ملک کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سینیٹ کی کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے جو اس کی تحقیقات کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔

سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ چونکہ یہ ایک صوبائی معاملہ ہے اس لیے حکومت نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی رپورٹ مکمل کرکے وفاقی حکومت کو بھجوائیں۔

رضا ربانی نے کہا کہ اگر اس واقعہ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر کا کوئی رشتہ دار بھی ملوث ہو تو اُس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیر کے روز ایوان میں ایک بیان دیں گے اور اگر ایوان کے ارکان اس سے متفق نہ ہوئے تو اس کو ایوان کی انسانی حقوق کے بارے میں کمیٹی کے سپرد کردیا جائے۔

اسی بارے میں
مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد