تشدد: شوہر نے سر، پلکیں مونڈ دیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ساحلی ضلع ٹھٹہ میں شوہر نے مبینہ طور پر اپنی حاملہ بیوی پر تشدد کے بعد اس کا سر اور پلکیں مونڈ دی ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے حاجو ملاح نامی عورت کے دیور کو اعانت جرم کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔ چوہڑ جمالی پولیس تھانے میں چھبیس سالہ حاجو ملاح کے سوتیلے والد اسماعیل ملاح نے مسمات حاجو کے شوہر عارب ملاح اور دیور محمد ملاح کے خلاف تشدد اور ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کرایا ہے۔ پولیس نے ملزم محمد ملاح کو حراست میں لے لیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ عارب ملاح فرار ہوگئے ہیں۔ مسمات حاجو ملاح نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا کہ وہ تشدد پسند ہے اور وہ اس کے ساتھ مزید رہنا نہیں چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اور دیور نے ان کو رسیوں سے باندھ کر سر اور پلکیں مونڈ دیں اور چیخ و پکار کرتی رہی مگر انہوں نے ان کی ایک بھی نہ سنی۔ پڑوس والوں نےشور سن کر ان کے گھر جار کر اطلاع دی۔ عارب ملاح مزدوری کرکے گزر بسر کرتے ہیں ان کی مسمات حاجو ملاح سے کوئی تین سال قبل شادی ہوئی تھی۔ مسمات حاجو کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر ان کی دو سالہ بیٹی نسیمہ کو بھی ساتھ لے گیا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ وہ کبھی بھی آکر اسے جان سے مار ڈالے گا۔ دوسری جانب گرفتار ملزم محمد ملاح کا الزام ہے کہ مسمات حاجو ملاح کا کردار درست نہیں اس لیے اس کا سر مونڈا گیا ہے۔ ان کے مطابق حاجو ملاح کچھ روز قبل ایک شخص کے ساتھ گھر چھوڑ گئی تھیں اور بعد میں انہیں واپس لایا گیا تھا۔ خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاونڈیشن کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون تک تین ماہ کے دوران صوبہ سندھ میں خواتین پر تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچپن خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، تین جھلسنے سے اور ایک تیزاب پھینکنے سے زخمی ہوئی، اس طرح تیرہ خواتین کو جنسی اور چھبیس خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینتالیس خواتین نے گھریلو تنازعات اور دیگر وجوہات کی وجہ سے خودکشی کی جبکہ اٹھارہ خواتین شوہر یا سسرال کے تشدد کا نشانہ بنیں۔ | اسی بارے میں دو خواتین گلا کاٹ کر مار دی گئیں07 September, 2007 | پاکستان ’خواتین آج بھی انصاف کی متلاشی‘08 March, 2008 | پاکستان مظلوم خاندان، جسے انصاف کا انتظار ہے13 November, 2006 | پاکستان صائمہ خان پر حملہ، فنکار خوفزدہ22 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||