BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد: شوہر نے سر، پلکیں مونڈ دیں

مسمات حاجو ملاح نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا کہ وہ تشدد پسند ہے
سندھ کے ساحلی ضلع ٹھٹہ میں شوہر نے مبینہ طور پر اپنی حاملہ بیوی پر تشدد کے بعد اس کا سر اور پلکیں مونڈ دی ہیں۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے حاجو ملاح نامی عورت کے دیور کو اعانت جرم کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

چوہڑ جمالی پولیس تھانے میں چھبیس سالہ حاجو ملاح کے سوتیلے والد اسماعیل ملاح نے مسمات حاجو کے شوہر عارب ملاح اور دیور محمد ملاح کے خلاف تشدد اور ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کرایا ہے۔

پولیس نے ملزم محمد ملاح کو حراست میں لے لیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ عارب ملاح فرار ہوگئے ہیں۔

مسمات حاجو ملاح نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا کہ وہ تشدد پسند ہے اور وہ اس کے ساتھ مزید رہنا نہیں چاہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اور دیور نے ان کو رسیوں سے باندھ کر سر اور پلکیں مونڈ دیں اور چیخ و پکار کرتی رہی مگر انہوں نے ان کی ایک بھی نہ سنی۔ پڑوس والوں نےشور سن کر ان کے گھر جار کر اطلاع دی۔

عارب ملاح مزدوری کرکے گزر بسر کرتے ہیں ان کی مسمات حاجو ملاح سے کوئی تین سال قبل شادی ہوئی تھی۔

مسمات حاجو کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر ان کی دو سالہ بیٹی نسیمہ کو بھی ساتھ لے گیا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ وہ کبھی بھی آکر اسے جان سے مار ڈالے گا۔

دوسری جانب گرفتار ملزم محمد ملاح کا الزام ہے کہ مسمات حاجو ملاح کا کردار درست نہیں اس لیے اس کا سر مونڈا گیا ہے۔ ان کے مطابق حاجو ملاح کچھ روز قبل ایک شخص کے ساتھ گھر چھوڑ گئی تھیں اور بعد میں انہیں واپس لایا گیا تھا۔

خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاونڈیشن کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون تک تین ماہ کے دوران صوبہ سندھ میں خواتین پر تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچپن خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، تین جھلسنے سے اور ایک تیزاب پھینکنے سے زخمی ہوئی، اس طرح تیرہ خواتین کو جنسی اور چھبیس خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینتالیس خواتین نے گھریلو تنازعات اور دیگر وجوہات کی وجہ سے خودکشی کی جبکہ اٹھارہ خواتین شوہر یا سسرال کے تشدد کا نشانہ بنیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد