صائمہ خان پر حملہ، فنکار خوفزدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف اداکارہ اور رقاصہ صائمہ خان پر قاتلانہ حملے کے بعد لاہور کے سٹیج فنکاروں اور پروڈیوسرز میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ انہیں بھی دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ بدھ کو نامعلوم افراد نے اداکارہ صائمہ خان پر فائرنگ کر کے انہیں شدید زخمی کردیا تھا۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے لیکن صائمہ خان کے ساتھی فنکار پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے بقول مقدمہ درج ہونے کے باوجود ابھی تک کسی ملزم کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صائمہ خان پر قاتلانہ حملہ کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرایا گیا ہے اور صائمہ خان کے صحتیاب ہونے پر ہی تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔ سٹیج فنکاروں اور پروڈیوسرز نے آل پاکستان آرٹسٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے جمعرات کو احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد میں ایک اخباری پریس کانفرنس میں کہا کہ صائمہ خان پر قاتلانہ حملے کا حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ واقعہ کسی اور شخصیت کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو اس وقت پوری انتظامیہ متحرک ہوتی۔
صائمہ خان ان دنوں الفلاح تھیٹر میں ڈرامہ ’تو ہی ہے پیار میرا‘ میں اداکاری کر رہی تھیں جبکہ اسی ڈرامہ کی ایک دوسری اداکارہ اور معروف رقاصہ نداء چودھری کو بھی دھمکی آمیز فون کال موصول ہو رہی ہیں اور ان سے دو کروڑ تاوان کا تقاضہ کیا جا رہا ہے۔ دھمکی آمیز کالز موصول ہونے پر نداء چودھری نے عارضی طور ڈرامے میں کام کرنا بند کر دیا ہے۔ مضروب فنکارہ صائمہ خان سٹیج ڈراموں میں ’بے باک‘ ادکاری اور رقصوں کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی وجہِ شہرت ناچ گانے پر مبنی ایک سی ڈی تھی جسے نام دیا گیا تھا ’ بے بس کلیاں‘۔ صائمہ خان جمعرات کی شب مقامی ہسپتال سے کسی نامعلوم پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل ہوگئی تھیں۔ ان کے ساتھی فنکاروں کا کہنا ہے کہ صائمہ خان کو حملہ آوروں کی طرف سے دوبارہ فون کال موصول ہوئی تھیں جس پر انہیں ہسپتال چھوڑنا پڑا۔ ڈرامہ ’تو ہی ہے پیار میرا‘ کے پروڈیوسر چنگیز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دو جون کو ڈرامہ نمائش کے لیے پیش ہوتے ہی انہیں نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہونا شروع ہو گئی تھیں کہ ایک کروڑ روپیہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہو۔
معروف اداکار سہیل احمد کا کہنا ہے کہ ایک طرف روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا دعویْ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب فنکاروں کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ’سرسبز پنجاب کا نعرہ لگانے والوں کو خوف زدہ عوام کے چہروں پر زردی نظر نہیں آتی؟‘ ۔ فنکاروں اور پروڈیوسرز نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے فنکاروں کو تحفظ فراہم نہ کیا اور جمعہ تک کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو تمام سٹیج ڈرامے بند کر دیئے جائینگے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی دو سٹیج اداکاروں طارق ٹیڈی اور افضل خان المعروف جان ریمبو کو نامعلوم افراد نے اس وقت گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا جب یہ دونوں فنکار گوجرانوالہ میں ڈرامہ پرفارم کر کے لاہور واپس لوٹ رہے تھے۔ فلم اور سٹیج کی معروف اداکارہ اور رقاصہ نرگس بھی اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لیے شوبز کی دنیا سے کنارہ کش ہو کر بیرون ملک چلی گئی تھیں۔ |
اسی بارے میں دواداکاراؤں کے خلاف کارروائی؟06 May, 2005 | فن فنکار ہیروئنیں محافظ رکھنے پر مجبور18 June, 2005 | فن فنکار تھیٹر کی پانچ اداکارائیں گرفتار24 June, 2004 | فن فنکار بھارت سےواپسی پراداکاراؤں کاجھگڑا01 July, 2004 | فن فنکار فحاشی پرگرفتار اداکارائیں رہا01 October, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||