BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 May, 2007, 00:43 GMT 05:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختار مائی حکومتی رویے پر مستعفی

مختار مائی
مظفرگڑھ کی انتظامیہ شروع دن سے ہی میروالہ میں ویمن سٹنر کے قیام میں روڑے اٹکاتی آ رہی ہے: مختار مائی
مختار مائی نے اپنے آبائی گاؤں میروالہ میں سرکاری سرپرستی میں قائم ہونے کے منتظر ’ویمن سنٹر‘ کی انتظامی کمیٹی کی سربراہی سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

اپنے استعفے میں انہوں نے مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ اس کے تاخیری حربوں کی وجہ سے ایک برس گزر جانے کے باوجود میروالہ میں ویمن سنٹر کا قیام عمل میں نہیں آسکا۔

وفاقی وزارت برائے ترقیِ خواتین کو بھیجے گئے اس استعفے میں مختار مائی نے لکھا ہے کہ سال دو ہزار پانچ میں وزیراعظم شوکت عزیز سے ایک ملاقات کے دوران انہوں نے مصبیت زدہ خواتین کے لیے میروالہ میں ایک ٹھکانہ بنانے کی درخواست کی تھی، جسے اسی وقت منظور کر لیا گیا۔

مختار مائی کے مطابق انہوں نے مظفرگڑھ کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) اور ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر (ای ڈی او) کمیونٹی ڈیویلپمنٹ سے ملاقاتوں میں بارہا درخواست کی کہ میروالہ میں ویمن سٹنر کا قیام جلد عمل میں لایا جائے، لیکن اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ان کے مطابق انہوں نے ویمن سنٹر کے قیام کے لیے جب دباؤ بڑھایا تو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے انہیں بتایا گیا کہ ان کی بطور چیئر پرسن ایک سالہ مدت ختم ہونے کو ہے اور جلد ہی ویمن سنٹر کی نئی چیئرپرسن کا انتخاب کر لیا جائے گا۔

بنیادی سوال
 انیس مئی کو استعفیٰ دیتے ہوئے مختار مائی نے سوال اٹھایا کہ ان کی بطور چیئرپرسن مدت کیسے ختم ہو رہی ہے جبکہ اس دوران نہ تو ویمن سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی قابل ذکر عملی قدم اٹھایا گیا ہے

انیس مئی کو استعفیٰ دیتے ہوئے مختار مائی نے سوال اٹھایا کہ ان کی بطور چیئرپرسن مدت کیسے ختم ہو رہی ہے جبکہ اس دوران نہ تو ویمن سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی قابل ذکر عملی قدم اٹھایا گیا ہے۔

چوبیس مئی کو مظفرگڑھ کے ڈی سی او کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے شعبہ خواتین کی ضلعی جنرل سیکرٹری امُ کلثوم سیال کو مختار مائی کی جگہ ویمن سنٹر میروالہ کی نئی چیئرپرسن بنا دیا گیا۔

مظفرگڑھ کے ای ڈی او کمیونٹی ڈیویلپمنٹ خیر محمد بُدھ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مختار مائی کی طرف سے ضلعی انتظامیہ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

خیر محمد بُدھ کا کہنا تھا کہ اصول و ضوابط کے تحت ویمن سنٹر کی انتظامی کمیٹی کا سربراہ کوئی بھی فرد صرف ایک سال کے لیے رہ سکتا ہے اور مختار مائی کی یہ مدت پوری ہو گئی تھی۔ ان کے بقول مختار مائی کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ ویمن سنٹر کی سرپرستی کرتی رہیں۔

مختار مائی کا کہنا ہے کہ مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ شروع دن سے ہی میروالہ میں ویمن سنٹر کے قیام میں روڑے اٹکاتی آ رہی ہے اور اس حوالے سے ایک دو دفعہ تو وفاقی حکومت کی طرف سے اس کی تحریری سرزنش بھی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ابتداء میں ان کی تنظیم ’مختار مائی ویلفیئر آرگنائزیشن‘ کو ویمن سنٹر کی این جی او کمیٹی میں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح خیر محمد بدھ نے بطور ای ڈی او کمیونٹی ڈیویلپمنٹ عدالت سے رجوع کیا کہ ویمن سٹنر کو میروالہ کی بجائے مظفرگڑھ شہر میں قائم کیا جائے۔

بات اصول کی ہے
 اصول و ضوابط کے تحت ویمن سنٹر کی انتظامی کمیٹی کا سربراہ ایک فرد صرف ایک سال کے لیے رہ سکتا ہے اور مختار مائی کی یہ مدت پوری ہو گئی تھی
ضلعی افسر خیر محمد

مختار مائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تنظیم کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے میروالہ میں ہی پانچ کمروں پر مشتمل ’ویمن کرائسسز سنٹر‘ قائم کیا ہوا ہے جہاں دور دور سے مصبیت زدہ خواتین پناہ حاصل کرتی ہیں۔

ایک عام دیہاتی خاتون مختار مائی کو سال دو ہزار دو میں اس وقت پہلے پاکستان اور پھر دنیا بھر میں شہرت حاصل ہوئی جب ایک پنچایت کے حکم پر اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انہوں نے ملزموں کو سزا دلانے کے لیے کٹھن عدالتی جنگ لڑی۔

خواتین کے حقوق کی علمبردار بننے کے حوالے سے ملنے والی عالمی شہرت کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے میروالہ میں لڑکیوں کا پہلا سکول قائم کیا اور ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی دورے کر کے پاکستان میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا۔

ان کے اسی فعال کردار کی وجہ سے انہیں بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اس دوران ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کیا گیا۔

نارتھ ساؤتھ پرائز
مختار مائی کو کونسل آف یورپ کا اعزاز
مختار مائی کی قیادت
خواتین کے عالمی دن پر مختار مائی نے جلوس نکالا
مختار مائیسوانح عمری
مختاراں مائی کی سوانح عمری کی رونمائی
سالنامہاجتماعی شرمندگی
پاکستان میں خواتین کے مسائل اور مشرف کا بیان
مختار مائی’جنگ لڑ رہی ہوں‘
مختار مائی کا امریکی تنظیموں سے خطاب
مختار مائی مختارمائی کےساتھ دن
مختار مائی کے ساتھ ایک دن
مختار مائیمختار مائی سے ملاقات
مختار مائی کے گھر پر سخت سکیورٹی
اسی بارے میں
زیادتی کا بدلہ سکول بنا کر
07 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد