BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 June, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں کسان خواتین کے لیے زمین

کسان
سندھ میں بے زمین کسانوں کو زمین فراہم کی جائے گی
سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں ایک لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی بے زمین ہاریوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں خواتین کو اولیت حاصل ہوگی۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے منگل کو پوسٹ بجیٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری زمین ’لینڈ گرانٹ پالیسی‘ کے تحت تقسیم کی جائے گی جو پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کروائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں جہاں جہاں زمین موجود ہے وہاں کے قریبی علاقوں کے کسان کو اولیت دی جائے گی اور اگر وہاں کسان دستیاب نہ ہوئے تو متعلقہ ضلع سے بے زمین ہاریوں کو ترجیح دی جائے گی۔

قائم علی شاھ کا کہنا تھا کہ زمین کی تقسیم میں خواتین کو اولیت دی جائے گی، خاص طور پر کسانوں کی بیوی، بیٹی اور بہن کو، تاکہ وہ بھی ملکیت کی وارث بن سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ جن کسانوں کو یہ زمین ملے گی انہیں دو ملین روپوں تک کا قرضہ، بیج اور کھاد بھی فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبوں کو خصوصی توجہ حاصل ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے لیے نئے مالی سال کے بجیٹ میں اٹھاسی فیصد اور صحت کے شعبہ میں ایک سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر بنیادی صحت مرکز قائم کیا جائے گا اور وہاں جو ڈاکٹر مقرر کیئے جائیں گے انہیں اس بات کے لیے پابند بنایا جائے گا کہ وہ تین سال وہیں تعینات رہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنےکے لیے تھر کے کوئلے سے تین بجلی گھر قائم کیے جائیں گے جو دو سے تین برسوں میں مکمل ہوں گے۔ ان کے مطابق بجلی گھر قائم کرنے کی خاطر مختلف غیر ملکی کمپنیوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے سید قائم علی شاھ نے بتایا کہ ان کی حکومت صوبے میں پانی کے ذخیرے کے لیے سات چھوٹے ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور باران ندی پر ڈیم کی تعمیر کا کام بھی شروع ہوچکاہے۔

ان کے بقول سات چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کے بعد صوبے کی ایک لاکھ ایکڑ غیر آباد زمین، آباد ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں تعینات رینجرز نے تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں مختص کردہ رقم سے پچپن فیصد اضافی رقم خرچ کی ہے۔ جس کے پیش نظر ان کے بقول آئندہ مالی سال کے لیے رینجرز کے بجیٹ میں انیس ملین روپوں کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب ان کا نئے سال کا بجٹ بیالیس کروڑ نوے لاکھ روپے ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں مالی سال میں بارہ مئی، اٹھارہ اکتوبر اور ستائیس دسمبر کے واقعات کے بعد امن امان کی صورتحال ابتر رہی اور بعض شہری حلقوں کی طرف سے رینجرز پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔

یاد رہے کہ صوبائی بجیٹ میں امن و امان کے لیے اکیس ارب تیس کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں، جس میں پولیس کی گرانٹ سترہ ارب سے بڑھا کر اکیس ارب روپے کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد