کراچی سے اغوا دو بچیاں ونی کی نذر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے کالا ڈھاکہ میں ایک شخص نے اپنی دو معصوم بھتیجیوں کو ونی کے طور پر دے دیا اور دونوں نوعمر لڑکیوں کو کراچی سے اغوا کرکے قبائلی علاقے کالا ڈھاکہ منتقل کردیا گیا ہے۔ اس شخص نے اپنی پسند سے شادی کی تھی اور بعد میں ایک جرگے میں دونوں لڑکیوں کو ونی کے طور پر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ دس سالہ سائرہ اور آٹھ سالہ زینب کی والدہ یاسمین ہزارہ نےایڈیشنل سیشن جج صوفیہ لطیف کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کی بیٹیوں کو اغوا کیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ انہیں علاقہ غیر منتقل کیا جارہا ہے۔ عدالت نے ڈی آئی جی پولیس کو حکم جاری کیا تھا کہ لڑکیوں کو جمعہ کی صبح تک بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ پولیس نے ایک ملزم صنوبر کو حراست میں لیکر عدالت میں پیش کیا جن کے وکیل نے انکشاف کیا کہ لڑکیوں کو کالا ڈھاکہ منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ اس میں لڑکیوں کے والد زرین تاج کی مرضی شامل تھی۔ مگر زرین تاج نے اس سے انکار کیا ہے۔ لڑکیوں کی والدہ یاسمین ہزارہ نے بتایا کہ آٹھ سال قبل ان کے شوہر تاج زرین کے بھائی شاہ ترین نے قبائلی علاقے کالا ڈھاکہ میں ایک لڑکی سے اس کے والدین کی مرضی کے خلاف بیاہ رچا لیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں شاہ ترین پر اس شادی کے بدلے ’دو لڑکیوں کے رشتے کا جرمانہ‘ عائد کیا گیا۔ بچیوں کے والد تاج زرین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی شاہ ترین نے بغیر ان سے مشورہ کیے دونوں بچیاں دینے کا وعدہ کرلیا۔ ’ ہم نے سوچا جب بچیاں بڑی ہوں گی اور یہ پوچھیں گے تو اس وقت دیکھیں گے۔‘ یاسمین نے بتایا کہ انہیں دھمکیاں ملتی رہیں تھیں۔ دو اور تین جولائی کی شب جب انکے شوہر کمپنی کے کام سے حیدرآباد گئے ہوئے تھے تو شاہ ترین اور ان کے کزن صنوبر نے گھر میں داخل ہوکر اسلحہ کے زور پر بچیاں اٹھا لیں اور انہیں خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں دیں۔ کالا ڈھاکہ سے روزگار کی تلاش میں کراچی آنے والے تاج زرین اور سوات کی مسمات یاسمین نے پندرہ سال قبل کراچی میں شادی کی تھی، اور ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ تاج زرین کے مطابق شادی کے بعد بھائیوں اور رشتیداروں نے ان سے تعلقات ختم کردیے تھے۔ تاج زرین گلبرگ کے علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور پانچ ہزار روپے ماہانہ پر ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل کراچی میں بھی جرگہ منقعد کیا گیا جس میں شرکت کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا مگر وہ نہیں گئے۔ انہیں ڈر ہوا کہ کہیں جرگے کے شرکاء ان کے گھر پر حملہ نہ کردیں اس اس لیے گھر بار چھوڑ کر دوسروں کے گھر پناہ لی ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||