BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 February, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چار سالہ لڑکی کی ونی پر گرفتاریاں

اس واقعہ سے قبل میانوالی میں بھی خواتین کو ونی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں چار سالہ بچی کو ونی کے طورپر اکتالیس سالہ شخص کے ساتھ نکاخ پڑھوانے کے جرم میں پنچائیت کے سربراہ سمیت بارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔


تھانہ کولاچی کے ڈی ایس پی سرفراز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباًً تین ہفتے قبل اخبارات میں ایک خبر آئی تھی جس میں چار سالہ بچی سمیرا بی بی کا اکتالیس سالہ شخص محبوب سے ونی کے طورپر نکاخ پڑھوا دیا گیا تھا جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کرائی گئی اور گزشتہ روز پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بارہ افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کرلئے ہیں۔

گرفتار ہونے والو ں میں پنچائیت کے سات افراد کے علاوہ اس کے سربراہ سیف الرحمان بلوچ بھی شامل ہیں جبکہ بچی کے والد کو بھی حراست میں لےلیا گیا ہے۔

 سیف الرحمان بلوچ کی سربراہی میں قائم پنچائیت نے فیصلہ سناتے ہوئے لڑکے کی چار سالہ بھانجی سمیرا بی بی کا نکاح ونی کے طورپر لڑکی کے 41 سالہ ماموں محبوب کے ساتھ کرادیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 310 اے اور 310 کے تحت مقدمات دائر کرنے کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہونے پر دس سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک دورافتادہ گاؤں گنڈی عمر خان میں گزشتہ ماہ فاروق نامی شخص نے گاؤں کی ایک لڑکی نورین سے شادی کی خواہش ظاہر کی تاہم پہلے سے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کے والدین نے رشتہ دینے سے انکار کیا جس کے بعد فاروق اور مذکورہ لڑکی کسی نامعلوم جگہ پر منتقل ہوگئے۔

اس پر لڑکی کے ورثاء نے معاملہ مقامی پنچائیت کے سپرد کر دیا۔ سیف الرحمان بلوچ کی سربراہی میں قائم پنچائیت نے فیصلہ سناتے ہوئے لڑکے کی چار سالہ بھانجی سمیرا بی بی کا نکاح ونی کے طورپر لڑکی کے 41 سالہ ماموں محبوب کے ساتھ کرادیا تھا۔

ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ پنچایت کے سربراہ سیف الرحمٰان نے پہلے تو اس معاملے کو جھوٹا قرار دیا تھا لیکن پھر انہوں نے چار سالہ سمیرا بی بی کو ونی کیے جانے کی اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ تھا جس میں کئی جانیں ضائع ہو جاتیں لہذا ’انسانی ہمدردی‘ کے نام پر انہوں نے ونی کا فیصلہ دیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچائیت نے فاروق کو پانچ سال کے لیے علاقہ بدر کر دیا ہے۔

گاؤں گنڈی عمر خان میں مقامی خوانین کا اثر رسوخ زیادہ ہے جبکہ پنچائیت میں اکثریتی ممبران کا تعلق بھی انہی بااثر لوگوں سے ہے۔ مقامی لوگ بھی ان خوانین کے خوف کے باعث اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے جبکہ دو رہائشیوں نے اس شرط پر بی بی سی سے بات کی کہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
ونی کا مقدمہ، سماعت شروع
24 February, 2006 | پاکستان
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد